آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش سے انسانی بحران میں شدید اضافہ ہوگیا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگ اور سمندری راستے بند ہونے سے انسانی ضروریات اور بحران خطرناک حد تک بڑھ رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی حالیہ شدّت، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور باب المندب کی بندش کی وجہ سے انسانی اور معاشی بحران کے اثرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران نے عراق کے ذریعے موصول ہونے والی امریکی جنگ بندی تجویز مسترد کر دی
انہوں نے کہا کہ اس تناؤ کے باعث بحری تجارت، ہوائی پروازوں، سرحدی گزرگاہوں اور علاقائی سپلائی چینز کی معطلی کا شدید خطرہ پیدا ہو چکا ہے، جن پر خطے کے کروڑوں لوگوں کی روزمرہ زندگی کا انحصار ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ تجارتی راستوں میں کسی بھی مزید رکاوٹ کے نتیجے میں امدادی ضروریات اور اخراجات میں بیحد اضافہ ہو جائے گا، جبکہ اس وقت بھی امدادی آپریشنز شدید فنڈز کی کمی اور دباؤ کا شکار ہیں۔
انہوں نے جنگ میں شامل تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کا احترام کریں، شہریوں اور شہری املاک کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور بنیادی سروسز کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے سے گریز کریں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










