ایران کی اپنے بحری جہاز پر یوکرینی حملے کی مذمت، نتائج کیلئے تیار رہنے کی وارننگ

ایران نے بحیرہ کیسپین میں اپنے ایک بحری جہاز پر یوکرینی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایران کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ بحیرہ کیسپین میں موجود ایرانی بحری جہاز کو ہفتے کی صبح نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی ترجمان کے مطابق یہ اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2(4) کی سنگین خلاف ورزی ہے اور ایک ایسا جارحانہ عمل ہے، جو جاری جنگ کے دائرہ کار کو مزید پھیلانے کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی اثاثوں سے بحری جہازوں کے نقصان کا ازالہ ہوا تو پھر کسی کے اثاثے محفوظ نہیں رہیں گے، عباس عراقچی
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ اس حملے کو یوکرینی حکومت کے سربراہ نے کھلم کھلا تسلیم کیا ہے، جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یوکرین کا مسلسل غیر منطقی اور معاندانہ رویہ ظاہر کرتا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ یوکرینی حکومت نے نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے بلکہ وہ خطے میں جنگ اور ناامنی کی آگ کو بھڑکانے کی خطرناک کوشش بھی کر رہی ہے۔ تہران نے مطالبہ کیا کہ یوکرینی حکام کو ان کے اس مجرمانہ اور اشتعال انگیز اقدام کے لیے جواب دہ ٹھہرایا جائے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یوکرینی حکومت کی اس مہم جوئی کے نتیجے میں سامنے آنے والے تمام تر نتائج کی تمام تر ذمہ داری خود یوکرین حکومت اور اس کے سہولت کاروں پر عائد ہوگی۔
واضح رہے کہ یوکرین کے صدر ولودیمیر زلینسکی نے بحیرہ کیسپین میں حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایک روسی جنگی جہاز اور ایران سے متعلق فوجی سامان منتقل کرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









