ایران کی امریکہ کے خلاف نئی حکمت عملی، امریکی فوج کے ڈیجیٹل دماغ پر حملوں سے فضائیہ مفلوج

ایران نے امریکی جنگی مشین کے ڈیٹا نیٹ ورک اور بحرین میں قائم ایمازون ویب سروسز کے مراکز کو نشانہ بنا کر اپنی اسٹریٹجک حکمتِ عملی تبدیل کر دی۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بحرین میں ایمازون ویب سروسز کے 3 اہم ڈیٹا سینٹرز پر حالیہ ایرانی حملوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایران نے اب امریکی فوج کی ڈیجیٹل صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی باقاعدہ حکمتِ عملی اختیار کر لی ہے۔
ایران نے دو مرحلوں میں بحرین میں واقع ایمازون کے تمام 3 مرکزی نوڈز کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ پہلا حملہ 40 روزہ جنگ کے دوران شمالی بحرین میں ہوا، دوسرا حملہ 22 جولائی کو مشرقی بحرین پر اور تیسرا حملہ 24 جولائی کو مغربی بحرین کی تنصیب پر کیا گیا۔
ایمازون ویب سروسز دراصل امریکی حکومت، وزارتِ دفاع پینٹاگون اور امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا بنیادی ڈیجیٹل ڈھانچہ ہے۔
سیٹلائٹ تصاویر، ڈرون فیڈز، سگنل انٹیلی جنس اور ریڈار کے تمام ڈیٹا امریکی کمانڈروں تک پہنچنے سے پہلے ان ہی تنصیبات کے ذریعے پروسیس ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج نے اپنے ذخائر بچانے کیلئے ایرانی ڈرونز اور میزائل کو روکنا چھوڑ دیا، رپورٹ
رپورٹ کے مطابق اگر ایک رن وے کسی جنگی طیارے کو پرواز کرنے کی اجازت دیتا ہے، تو ایک ڈیٹا سینٹر اس طیارے کے پائلٹ اور کمانڈر کو درست فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
امریکی فوج کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے منصوبوں پر بڑھتے ہوئے انحصار کے بعد یہ ڈیٹا سینٹرز فوجی فیصلوں کے انجن بن چکے ہیں۔
بحرین کی سینٹرل کمانڈ کے اڈوں سے قربت کی وجہ سے یہ ڈیٹا سینٹرز امریکی آپریشنل ڈیٹا کی پروسیسنگ کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ ایمازون کے نیٹ ورک کی ساخت ایسی ہے کہ وہ مکمل بلیک آؤٹ سے بچ جاتی ہے، لیکن ان مراکز کو نقصان پہنچانے سے امریکہ کو اپنا ڈیٹا دوسرے راستوں پر منتقل کرنا پڑتا ہے۔
اس سے فیصلوں کی رفتار سست ہو جاتی ہے، بینڈوڈتھ متاثر ہوتی ہے، اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور کسی بھی بحران کے دوران امریکی فوج کی آپریشنل کارکردگی میں شدید کمی آتی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











