وزیراعظم نے ملک بھر میں اسمارٹ میٹرز لگانے کی ہدایت کر دی

PM Announces Major Power Relief
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے بجلی کے نظام میں اصلاحات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بجلی چوری کے مکمل خاتمے اور تقسیم کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ملک بھر میں اسمارٹ بجلی میٹرز کی تنصیب ناگزیر ہے۔
وزیراعظم نے پاور ڈویژن کے امور کا جائزہ لینے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں وفاقی وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، پاور ڈویژن کے اعلیٰ حکام اور پاور سیکٹر ٹاسک فورس کے اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس کے دوران بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، بجلی چوری کی روک تھام اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیحات میں بجلی کے شعبے کی اصلاحات شامل ہیں، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بجلی چوری کے مکمل خاتمے کے لیے سخت کارروائی کی ہدایت دی اور تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بلنگ سسٹم کا تکنیکی آڈٹ کروانے کا بھی حکم دیا تاکہ بلنگ کے نظام میں موجود خامیوں کو دور کیا جا سکے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ تمام ڈسکوز کی کارکردگی جانچنے کے لیے واضح اہداف، ٹائم لائن اور پرفارمنس انڈیکیٹرز مقرر کیے جائیں۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ بہترین کارکردگی دکھانے والی بجلی تقسیم کار کمپنی کو خصوصی ایوارڈ دیا جائے گا تاکہ دیگر ادارے بھی بہتر نتائج دینے کی کوشش کریں۔
دیہی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے وزیراعظم نے گاؤں کی سطح پر سولرائزیشن منصوبے تیار کرنے کی ہدایت بھی جاری کی۔ ان منصوبوں کا مقصد لوڈشیڈنگ میں کمی لانا، بجلی کی دستیابی بہتر بنانا اور متبادل توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے، تاکہ دور دراز علاقوں کے عوام کو بھی بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی اور تجارتی نقصانات میں مسلسل کمی آ رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (آئیسکو)، لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی (لیسکو)، گوجرانوالہ الیکٹرک پاور کمپنی (گیپکو)، فیصل آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (فیسکو) اور ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو) نے سو فیصد ریکوری حاصل کی، جسے بجلی کے شعبے میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام اور تکنیکی مسائل کے فوری حل کے لیے حیدرآباد، سکھر، لاہور، ملتان اور ہزارہ میں ڈسکوز سپورٹ یونٹس قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان مراکز کا مقصد بجلی کی وصولیوں میں بہتری، لائن لاسز میں کمی اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنا ہے۔
اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ ٹرانسفارمر لیول اثاثہ جاتی کارکردگی مینجمنٹ سسٹم (APMS) کے پہلے مرحلے کی تکمیل 30 ستمبر 2026 تک متوقع ہے۔ اس منصوبے کے تحت جدید ٹیکنالوجی سے منسلک ٹرانسفارمر نصب کیے جائیں گے، جن کی مدد سے بجلی چوری پر قابو پانے اور لوڈشیڈنگ میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔
حکام نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ حکومت ملک کے بجلی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ملتان، لاہور، پشاور، ہزارہ اور کوئٹہ میں ایک کروڑ باسٹھ لاکھ (16.2 ملین) سنگل فیز ایڈوانسڈ میٹرنگ انفراسٹرکچر (AMI) اسمارٹ میٹرز نصب کرنے کے منصوبے پر بھی غور کر رہی ہے۔ اس منصوبے سے بجلی کے استعمال کی درست نگرانی، بلنگ میں شفافیت اور صارفین کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










