پیر، 3-اگست،2026
پیر 1448/02/20هـ (03-08-2026م)

اسرائیل کا حماس کے ہتھیار ڈالنے کے معاہدے پر سنگین خدشات کا اظہار

03 اگست, 2026 09:59

حماس کے ساتھ ہتھیاروں کی دستبرداری کے معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے سنگین خدشات کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب حماس نے واضح کیا ہے کہ حملوں کا خاتمہ اور مکمل انخلا ہی کسی بھی معاہدے کی پہلی شرط ہے۔

امریکی کی جانب سے پیش کیے گئے حماس کی ہتھیار سے دستبرداری کے معاہدے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔

اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ حماس واقعی اپنے ہتھیار ختم کرنے کے موڈ میں نہیں ہے بلکہ وہ اپنی طاقت کو دوبارہ منظم کر رہی ہے، اور اگر اس مرحلے پر فوج واپس بلائی گئی تو حماس غصے سے دوبارہ حملے کر سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ اس معاہدے پر اسرائیل سے مسلسل مشاورت کی گئی تھی اور ان سے ایسا کچھ نہیں مانگا جا رہا، جو انہوں نے پہلے تسلیم نہ کیا ہو۔

یہ بھی پڑھیں : حماس نے غزہ معاہدے پر عملدرآمد اسرائیلی انخلا اور غزہ کی تعمیر نو سے مشروط کردیا

رپورٹس کے مطابق اسرائیل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ حماس کے ہتھیاروں کو صرف قبضے میں نہ لیا جائے بلکہ انہیں مکمل تباہ کیا جائے اور وہ غزہ کے اندر اپنی مرضی سے فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کی اجازت چاہتا ہے۔

حماس اور اسلامی جہاد کی قیادت نے قاہرہ میں اہم ملاقات کے دوران اپنا مشترکہ مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ میں مظلوم اور غیر مسلح فلسطینی شہریوں پر جاری حملوں کا فوری خاتمہ، اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا اور امدادی سامان کی فراہمی ہی آئندہ اقدامات کی بنیاد ہے۔

حماس کا کہنا ہے کہ بھاری ہتھیاروں کی منتقلی اور کسی بھی قسم کا انتظام صرف اسی صورت میں ممکن ہے، جب اسرائیلی جارحیت مکمل طور پر بند ہو اور عالمی تحفظ فراہم کیا جائے۔

یاد رہے کہ گزشتہ 9 ماہ کے دوران اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مزید ایک ہزار 220 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جبکہ نیتن یاہو کو اپنے ملک کے اندر بھی شدید سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔