ایپل نے سیکیورٹی رپورٹس کے نظام میں بڑی تبدیلی کردی

Big News For AI App Users
ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے سافٹ ویئر سیکیورٹی خامیوں کی رپورٹس وصول کرنے کے طریقہ کار میں اہم تبدیلی کردی ہے۔
کمپنی کو حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی بڑی تعداد میں سیکیورٹی رپورٹس موصول ہو رہی تھیں۔ ان میں کئی رپورٹس کم معیار کی یا غلط معلومات پر مبنی تھیں۔ اس صورتحال نے ایپل کی سیکیورٹی ٹیم پر کام کا دباؤ بڑھا دیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق ایپل نے جون 2026 میں اپنے سیکیورٹی ریویو سسٹم میں تبدیلی کا فیصلہ کیا۔ اس دوران کمپنی کو موصول ہونے والی سیکیورٹی رپورٹس کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ ہوگئی تھی۔ ان رپورٹس میں ایک بڑا حصہ اے آئی ٹولز کی مدد سے تیار کیا گیا تھا۔ سیکیورٹی ماہرین کو ہر رپورٹ کی جانچ میں وقت صرف کرنا پڑ رہا تھا۔
کمپنی کے مطابق اے آئی سے تیار ہونے والی متعدد رپورٹس میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کی گئی جو حقیقت میں موجود نہیں تھیں۔ اس طرح کی رپورٹس کی تصدیق کے لیے سیکیورٹی ماہرین کو اضافی وقت دینا پڑتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکل سکتا ہے کہ ٹیم کی توجہ حقیقی اور زیادہ اہم سیکیورٹی مسائل سے ہٹ جائے۔
ایپل کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اس کی کمپنی تک محدود نہیں ہے۔ جنریٹو اے آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ٹیکنالوجی کی صنعت میں بھی اس نوعیت کے مسائل سامنے آرہے ہیں۔ اے آئی نے سافٹ ویئر میں ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کی تلاش تیز کردی ہے۔ تاہم کم تجربہ رکھنے والے افراد بھی ان ٹولز کی مدد سے بڑی تعداد میں رپورٹس تیار کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی مدد سے کسی سافٹ ویئر میں ممکنہ کمزوری تلاش کرنا پہلے کے مقابلے میں آسان ہوگیا ہے۔ اے آئی مختصر وقت میں بڑی مقدار میں کوڈ کا جائزہ لے سکتی ہے۔ اس کے باوجود اس کے نتائج ہمیشہ درست نہیں ہوتے۔ بعض اوقات اے آئی ایسے مسائل کی نشاندہی کرتی ہے جو حقیقت میں سیکیورٹی خامی نہیں ہوتے۔
اسی وجہ سے سیکیورٹی ٹیموں کو ہر رپورٹ کی الگ سے تصدیق کرنا پڑتی ہے۔ اگر کسی کمپنی کو ایک ہی وقت میں ہزاروں غیر ضروری رپورٹس موصول ہوں تو ماہرین کے لیے اصل خطرات کو ترجیح دینا مشکل ہوسکتا ہے۔ یہی صورتحال اب بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے ایک نیا چیلنج بن رہی ہے۔
رپورٹ میں اٹلی کی سائبر سیکیورٹی اسٹارٹ اپ بائناریو کے دعوے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس نے اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے صرف تین ہفتوں میں میک بک کے جدید آپریٹنگ سسٹم میں 50 سے زائد ممکنہ سیکیورٹی خامیوں کی نشاندہی کی۔ تاہم ان تمام خامیوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ اس لیے اس دعوے کو حتمی سیکیورٹی نتائج کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
اس مثال سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں تیزی سے اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ایک طرف یہ ماہرین کو کم وقت میں زیادہ کوڈ کا جائزہ لینے میں مدد دے سکتی ہے۔ دوسری طرف غلط نتائج اور غیر مصدقہ رپورٹس کی تعداد بڑھنے سے سیکیورٹی ٹیموں کا کام بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مستقبل میں کمپنیوں کو اے آئی سے حاصل ہونے والی رپورٹس کے لیے بہتر جانچ کا نظام بنانا ہوگا۔ ایسی رپورٹس کو ترجیح دی جانی چاہیے جن میں واضح شواہد، درست معلومات اور قابل تصدیق سیکیورٹی خامی موجود ہو۔ اس طرح ماہرین اپنا وقت حقیقی خطرات پر زیادہ مؤثر انداز میں صرف کرسکیں گے۔
Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












