بنگلہ دیش نے نئی دہلی سے شیخ حسینہ کے ورچوئل خطاب پر بھارت سے وضاحت مانگ لی

پاکستان کے بعد اب بنگلہ دیش میں بھی بھارتی مداخلت کھل کر سامنے آ گئی، نئی دہلی نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو بھارت میں بیٹھ کر سیاسی سرگرمیوں کی کھلی چھوٹ دے دی۔
بنگلہ دیش میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی بھارتی سازشیں بے نقاب ہو گئی ہیں۔ بھارت نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جو 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش سے فرار ہونے کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں۔
5 اگست کو شیخ حسینہ واجد نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کی ایک تقریب سے ورچوئل خطاب کر رہی ہیں۔ اس اقدام پر بنگلہ دیش نے بھارت سے سخت وضاحت طلب کر لی ہے۔
بنگلہ دیش کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور شمع عبید اسلام نے کہا ہے کہ بھارت کو اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنا ہوگا۔ دوسری جانب بھارتی دفتر خارجہ نے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ایک نجی تقریب ہے اور حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان پر بھارتی وزارت خارجہ کا ترجمان بوکھلا گیا
نئی دہلی میں اتنی بڑی تقریب کا بھارتی حکومت کی سرپرستی کے بغیر انعقاد ناممکن سمجھا جا رہا ہے، اور بنگلہ دیش کے سخت احتجاج کے باوجود انہیں سرگرمیوں کی اجازت دینا معنی خیز ہے۔
ڈھاکہ مسلسل بھارت سے حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر رہا ہے کیونکہ وہ عدالت سے سزا یافتہ ہونے کے بعد بنگلہ دیش کو مطلوب ہیں۔
بھارت کی جانب سے حسینہ واجد کا خطاب بنگلہ دیش کی سلامتی پر حملہ اور عوام کے فیصلے پر کاری ضرب ہے۔ اس سے قبل بھارت پاکستان میں مختلف دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی اور چین کے خلاف دلائی لامہ کو رہائش دے چکا ہے۔
اب حسینہ واجد کے ذریعے بنگلہ دیش کے مفادات کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جس سے بھارت کا خطے کے تمام ممالک کے لیے خطرہ ہونا واضح ہو گیا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










