مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کے بھارتی اقدامات کے خلاف مکمل ہڑتال اور احتجاج

مقبوضہ جموں و کشمیر میں 5 اگست کے بھارتی غیر قانونی اقدام کے خلاف مکمل ہڑتال اور مظاہرے کیے گئے، جس سے بھارت کے نام نہاد معمول کے حالات کے دعوے بے نقاب ہو گئے۔
مقبوضہ جموں و کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے مودی حکومت کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کے خلاف یومِ سیاہ منایا۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کی اپیل پر پوری وادی میں مکمل ہڑتال کی گئی اور کاروبار زندگی بند رہا۔
بھارتی حکام نے ممکنہ احتجاج کو روکنے کے لیے ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور پیراملٹری اہلکار تعینات کر رکھے تھے، تاہم کشمیری عوام تمام تر رکاوٹیں توڑ کر سڑکوں پر نکل آئے اور اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی فضائی حدود کی بندش سے بھارتی ایوی ایشن شعبہ معاشی بحران کا شکار، 10 ایئر لائنز بند
کشمیر کے سینئر رہنما میرواعظ عمر فاروق اور دیگر حریت رہنماؤں نے کہا کہ 5 اگست کا دن کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقوق اور شناخت سے محروم کرنے کی تلخ یاد دہانی ہے، لیکن تمام تر بربریت کے باوجود کشمیری عوام اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں۔
سرینگر میں محبوبہ مفتی کی قیادت میں مشعل بردار مظاہرہ کیا گیا، جس میں تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ نئی دہلی میں بھی بھارتی پارلیمنٹ کے باہر اپوزیشن اتحاد کے ارکان نے مظاہرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا۔
سیاسی و معاشی ماہرین کے مطابق بھارتی پالیسیوں نے وادی کی معیشت کو تباہ کر دیا ہے، جس سے 15 ہزار کروڑ روپے سے زائد کا تجارتی نقصان ہوا اور 4 لاکھ 96 ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہوئے۔
مقبوضہ وادی میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے 25 لاکھ غیر مقامی ووٹرز کا زبردستی اندراج کیا ہے۔ تاہم 7 لاکھ مسلح اہلکاروں اور ظالمانہ قوانین کے باوجود بھارتی حکومت کشمیریوں کے جذبہ مزاحمت کو شکست دینے میں ناکام رہی ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









