جمعہ، 28-اگست،2026
جمعہ 1448/03/15هـ (28-08-2026م)

شفافیت، احتساب اور اداروں پر عوام کا اعتماد؛ پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں اہم اعداد و شمار سامنے آگئے

12 اگست, 2026 11:16

اسلام آباد: مشعل پاکستان نے پاکستان ٹرانسپیرنسی رپورٹ 2026 جاری کردی، جس میں ملک میں ریاستی و حکومتی سطح پر شفافیت، احتساب، اداروں پر عوامی اعتماد اور ڈیجیٹل گورننس سمیت مختلف امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔

مشعل پاکستان اس سے قبل پاکستان ریفارمز رپورٹ اور پاکستان فریڈم رپورٹ بھی جاری کرچکا ہے۔ نئی رپورٹ کی تیاری کے لیے ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے 2 ہزار افراد کی رائے حاصل کی گئی۔ سروے میں شامل 45 فیصد افراد کی عمریں 18 سے 25 سال، جبکہ 35 فیصد کی عمریں 26 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔ تعلیمی اعتبار سے 67 فیصد رائے دہندگان گریجویٹس، 32 فیصد ماسٹرز اور ایک فیصد پی ایچ ڈی تھے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں احتساب کے لیے مختلف ادارہ جاتی اور قانونی نظام موجود ہیں۔ شہریوں کے معلومات تک رسائی کے حق کے لیے وفاق اور چاروں صوبوں میں قوانین بھی نافذ ہیں، جبکہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی آڈیٹر جنرل کی سالانہ رپورٹس کی بنیاد پر مختلف اداروں اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آڈیٹر جنرل پاکستان نے اپنے 29 ذیلی دفاتر کے ذریعے 683 آڈٹ مکمل کیے، جن کے دوران 224 ارب روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔

مشعل پاکستان کے مطابق اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، نیپرا، نیب، آڈیٹر جنرل پاکستان اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سمیت بڑے ادارے باقاعدگی سے اپنی سالانہ کارکردگی رپورٹس شائع کرتے ہیں۔

رپورٹ میں شہریوں کے معلومات حاصل کرنے کے ذرائع کا بھی جائزہ لیا گیا۔ 25 فیصد رائے دہندگان نے فیس بک جبکہ 20 فیصد نے واٹس ایپ کو معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا۔ 15 فیصد افراد ٹی وی سے معلومات حاصل کرتے ہیں، جبکہ کسی بھی رائے دہندہ نے اخبار کو معلومات حاصل کرنے کا بنیادی ذریعہ قرار نہیں دیا۔

سوشل میڈیا سے متعلق نتائج میں 58 فیصد رائے دہندگان نے وہاں موجود خبروں کو گمراہ کن قرار دیا، جو آن لائن معلومات کے معیار اور قابلِ اعتماد ذرائع کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 46 فیصد رائے دہندگان نے بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں پر مثبت اعتماد کا اظہار کیا۔ معاشرے میں باہمی اعتماد کے حوالے سے 53 فیصد افراد نے عام لوگوں، 63 فیصد نے واقف افراد جبکہ 52 فیصد نے اجنبی لوگوں پر اعتماد کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ شہریوں کا ایک دوسرے پر اعتماد ایک مثبت اور مستحکم معاشرے کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حکومتی اور ریاستی اداروں سے متعلق سروے میں 34 فیصد رائے دہندگان نے پارلیمنٹ کی مالیاتی نظم و ضبط بہتر بنانے کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ اتنی ہی شرح یعنی 34 فیصد افراد نے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی پارلیمانی کوششوں پر اعتماد ظاہر کیا۔

رپورٹ کے مطابق 52 فیصد رائے دہندگان سمجھتے ہیں کہ حکومت طویل المدتی وژن کے مطابق کام کررہی ہے، جبکہ 36 فیصد کا خیال ہے کہ عوامی رائے حکومتی اقدامات پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پالیسی سازوں کی قابلیت پر 43 فیصد، پولیس میں اصلاحات کے عمل پر 39 فیصد اور اعلیٰ عدلیہ پر 40 فیصد رائے دہندگان نے اعتماد کا اظہار کیا۔

ملک کے دفاع کے حوالے سے مسلح افواج پر عوامی اعتماد کی شرح نمایاں طور پر زیادہ رہی، جہاں 82 فیصد رائے دہندگان نے پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے مسلح افواج پر اعتماد کا اظہار کیا۔

رپورٹ میں مختلف ریگولیٹری اداروں سے شہریوں کی واقفیت بھی جانچی گئی۔ 90 فیصد رائے دہندگان نے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے کردار سے آگاہی ظاہر کی، جبکہ 95 فیصد افراد ایف بی آر اور 90 فیصد ہائر ایجوکیشن کمیشن کے کردار سے واقف تھے۔

ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے 52 فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ ای گورننس پلیٹ فارمز عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنا رہے ہیں۔ 54 فیصد افراد کا خیال تھا کہ پاکستان ڈیجیٹل مستقبل کی جانب بڑھ رہا ہے، جبکہ 52 فیصد رائے دہندگان ملک کی طویل المدتی سمت کے حوالے سے پرامید نظر آئے۔

رپورٹ کے مجموعی نتائج میں پاکستان میں شفافیت، احتساب، اداروں پر اعتماد اور ڈیجیٹل گورننس کے حوالے سے عوامی رائے کی مختلف جہتوں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ سروے کے اعدادوشمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شہری ادارہ جاتی اصلاحات، بہتر معلومات تک رسائی اور مؤثر عوامی خدمات کو اہم سمجھتے ہیں۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔