پاکستان کی سیمنٹ صنعت کا مالی سال 2027 کا مثبت آغاز، مقامی طلب میں نمایاں اضافہ

اسلام آباد: پاکستان کی سیمنٹ صنعت نے مالی سال 2027 کا آغاز مثبت رجحان کے ساتھ کیا ہے، جہاں مقامی مارکیٹ میں طلب میں نمایاں اضافے کے باعث جولائی 2026 کے دوران مجموعی سیمنٹ ڈسپیچز میں سالانہ بنیاد پر 6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں سیمنٹ کی مجموعی ڈسپیچز 44 لاکھ 80 ہزار ٹن رہیں، جبکہ گزشتہ سال جولائی میں یہ حجم 42 لاکھ 20 ہزار ٹن تھا۔
سیمنٹ کی قیمت 1530 روپے فی بوری تک پہنچ گئی
سیمنٹ کی قیمتیں بھی بلند سطح پر برقرار ہیں۔ گزشتہ دنوں 50 کلوگرام سیمنٹ کی اوسط قیمت تقریباً 1,530 روپے فی بوری ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 8 فیصد زیادہ ہے۔
قیمتوں میں اضافے سے سیمنٹ کمپنیوں کو کوئلے، ایندھن اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے دباؤ کو کسی حد تک برداشت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
مقامی طلب میں 17 فیصد سے زائد اضافہ
جولائی کے دوران مقامی سیمنٹ ڈسپیچز میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ مقامی ڈسپیچز سالانہ بنیاد پر 17.3 فیصد بڑھ کر 37 لاکھ 70 ہزار ٹن ہوگئیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ جولائی 2020 کے بعد مقامی سیمنٹ مارکیٹ کی بہترین کارکردگی ہے۔ اس کے برعکس سیمنٹ کی برآمدات میں نمایاں کمی ہوئی اور برآمدی ڈسپیچز تقریباً 30 فیصد کم ہوکر 7 لاکھ 10 ہزار ٹن رہ گئیں۔
شمالی علاقوں میں مقامی طلب میں 19 فیصد اضافہ
ملک کے شمالی علاقوں نے مقامی سیمنٹ مارکیٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا۔ ان علاقوں میں مقامی سیمنٹ ڈسپیچز 19 فیصد اضافے سے 30 لاکھ 90 ہزار ٹن تک پہنچ گئیں۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب ملک کے مختلف علاقوں میں مون سون بارشوں کا سلسلہ جاری رہا اور سیمنٹ کی قیمتیں بھی بلند سطح پر رہیں۔
شمالی علاقوں سے جولائی 2026 میں سیمنٹ کی کوئی برآمد نہیں ہوئی، جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ تقریباً 2 لاکھ 30 ہزار ٹن سیمنٹ برآمد کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان بارڈر کی مسلسل بندش برآمدات میں کمی کی اہم وجوہات میں شامل ہے۔
جنوبی مارکیٹ میں ملا جلا رجحان
جنوبی علاقوں میں سیمنٹ مارکیٹ کی صورتحال نسبتاً ملی جلی رہی۔ مقامی سیمنٹ فروخت میں 9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ حجم 6 لاکھ 80 ہزار ٹن تک پہنچ گیا، تاہم برآمدات میں 9 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے نتیجے میں جنوبی علاقوں کی مجموعی سیمنٹ ڈسپیچز تقریباً ایک فیصد کمی کے ساتھ 13 لاکھ 90 ہزار ٹن رہیں۔
تعمیراتی سرگرمیوں میں بہتری سے طلب بڑھنے کی امید
رپورٹ کے مطابق کم شرح سود، آمدنی میں بہتری اور حکومتی ہاؤسنگ اقدامات مستقبل میں تعمیراتی سرگرمیوں کو سہارا دے سکتے ہیں۔
تعمیراتی شعبے کے لیے فنانسنگ میں بہتری، پراپرٹی ٹرانزیکشنز پر ٹیکس ریلیف، وفاقی ترقیاتی بجٹ اور وزیراعظم اپنا گھر اسکیم جیسے اقدامات سیمنٹ کی طلب میں مزید اضافے کا باعث بن سکتے ہیں، تاہم ان اقدامات پر مؤثر عملدرآمد کو اہم قرار دیا گیا ہے۔
مالی سال 2027 میں سیمنٹ ڈسپیچز بڑھنے کا امکان
رپورٹ میں اندازہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اگر نجی شعبے کی تعمیراتی سرگرمیاں بحال رہتی ہیں اور ترقیاتی اخراجات بجٹ کے مطابق جاری رہتے ہیں تو مالی سال 2027 کے دوران سیمنٹ ڈسپیچز میں مزید 7 سے 8 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔
تاہم سیمنٹ صنعت کو اضافی پیداواری صلاحیت، گھریلو صارفین کی محدود قوتِ خرید اور مالی دباؤ کے باعث ترقیاتی اخراجات میں ممکنہ کمی جیسے چیلنجز کا سامنا بھی رہے گا۔
اس کے علاوہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ، خصوصاً مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کی صورت میں، سیمنٹ کمپنیوں کے منافع اور تعمیراتی شعبے کی طلب پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











