گھر خریدنے والوں کیلئے بڑی خبر، ہاؤسنگ قرض کی مدت 30 سال تک بڑھا دی گئی

گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کے خواہشمند افراد کے لیے اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ہاؤسنگ فنانس کے قواعد میں بڑی تبدیلی کردی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت اب گھر کی خریداری کے لیے قرض 30 سال تک کی مدت میں حاصل کیا جاسکے گا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق نئے قواعد فوری طور پر نافذ العمل ہوں گے۔ اس فریم ورک کے ذریعے 2019 سے 2021 کے دوران جاری کی گئی ہاؤسنگ فنانس سے متعلق متعدد سابقہ ہدایات کی جگہ نئے اصول نافذ کیے گئے ہیں۔ بینکوں اور ڈویلپمنٹ فنانس اداروں کو نئے قواعد کے مطابق کام کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئے قواعد کے تحت ہاؤسنگ فنانس صرف تیار گھر خریدنے تک محدود نہیں رہے گا۔ شہری گھر، فلیٹ یا پلاٹ خریدنے کے لیے قرض لے سکیں گے۔ اس کے علاوہ اپنی ملکیت کے پلاٹ پر گھر تعمیر کرنے کے لیے بھی ہاؤسنگ فنانس حاصل کیا جاسکے گا۔
موجودہ گھر کی تزئین و آرائش یا اس میں توسیع کے لیے بھی قرض کی سہولت استعمال کی جاسکے گی۔ اس کے علاوہ سولر اور دیگر قابل تجدید توانائی کے نظام کی تنصیب کو بھی ہاؤسنگ فنانس کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کے لیے قرض کی زیادہ سے زیادہ مدت 10 سال مقرر کی گئی ہے۔
اسٹیٹ بینک نے قرض لینے والوں کی مالی صلاحیت جانچنے کے لیے بھی واضح شرائط مقرر کی ہیں۔ بینکوں اور متعلقہ مالی اداروں کو قرض منظور کرنے سے پہلے درخواست گزار کی تازہ ترین کریڈٹ رپورٹ حاصل کرنا ہوگی۔ یہ رپورٹ مرکزی بینک کے Electronic Credit Information Bureau یا کسی لائسنس یافتہ نجی کریڈٹ بیورو سے حاصل کی جاسکے گی۔
نئے فریم ورک کے مطابق ہاؤسنگ فنانس سمیت دیگر صارف قرضوں کی مجموعی ماہانہ قسط قرض لینے والے کی خالص قابل استعمال آمدن کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اس شرط کا مقصد یہ دیکھنا ہے کہ قرض لینے والا ماہانہ ادائیگی کا بوجھ برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں۔
جائیداد کی مالیت کے تعین کے لیے بھی نئی شرائط رکھی گئی ہیں۔ ایک کروڑ روپے سے زیادہ کے ہاؤسنگ قرض کے لیے بینک یا ڈی ایف آئی کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن سے منظور شدہ کم از کم ایک ویلیوایٹر سے جائیداد کی قیمت کا تخمینہ حاصل کرنا ہوگا۔
ایک کروڑ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے بینک کو اندرونی ویلیوایشن کی اجازت ہوگی۔ اس طرح چھوٹے اور بڑے قرضوں کے لیے جائیداد کی قیمت جانچنے کا طریقہ الگ رکھا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے نئے قواعد میں قرض کے بدلے جائیداد کی سیکیورٹی سے متعلق بھی شرائط شامل ہیں۔ عام طور پر قرض سے خریدی یا تعمیر کی گئی جائیداد متعلقہ بینک یا مالی ادارے کے حق میں رہن رکھنا ضروری ہوگا۔
تاہم 50 لاکھ روپے تک کے ہاؤسنگ فنانس کے لیے گرین پراپرٹی سرٹیفکیٹ یا اس کے مساوی دستاویز کے ساتھ جائیداد پر لِین بھی قابل قبول ہوگی۔ اس سے کم مالیت کے قرض لینے والوں کے لیے سیکیورٹی کے حوالے سے ایک متبادل راستہ موجود ہوگا۔
نئے قواعد کے تحت فنانس کیے گئے رہائشی یونٹس کے لیے انشورنس یا تکافل کوریج بھی لازمی ہوگی۔ اس کوریج کی رقم بقایا ہاؤسنگ فنانس کے برابر ہونی چاہیے۔ بینکوں کو قرض لینے والوں کو انشورنس یا تکافل کی شرائط، پریمیم اور دیگر متعلقہ چارجز کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔
ہاؤسنگ فنانس کے نئے قواعد سے ایسے افراد کو فائدہ ملنے کی توقع ہے جو طویل مدت میں قرض کی ادائیگی کرنا چاہتے ہیں۔ 30 سال تک کی مدت سے ماہانہ قسط کا بوجھ کم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم قرض لینے والے کو مجموعی لاگت اور دیگر شرائط کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










