اتوار، 23-اگست،2026
اتوار 1448/03/10هـ (23-08-2026م)

شام پر اسرائیلی حملہ، موساد کی ناپختگی یا ترکیہ سے تصادم کی دانستہ کوشش؟

23 اگست, 2026 09:58

اسرائیل کی جانب سے شام میں کیے گئے ایک فضائی حملے نے مشرقِ وسطیٰ میں صورتحال کو اس حد تک سنگین کر دیا تھا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست فوجی لڑائی کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

شام کے لیے امریکی سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے ایلچی ٹام بارک کے مطابق اس واقعے کی شروعات موساد کو ملنے والی اس انٹیلی جنس سے ہوئی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکیہ شام کے ایک ملٹری بیس پر اپنے اثاثے منتقل کر رہا ہے۔

واشنگٹن نے اس کی تصدیق کی تو معلوم ہوا کہ ترکیہ ایسا کچھ نہیں کر رہا تھا، جس کے بعد معاملہ سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔

معاملہ اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ شام کے وزیر خارجہ اور موساد کے سربراہ کے درمیان تقریباً 2 گھنٹے کا بیک چینل رابطہ بھی ہوا اور ایسا لگا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : اسرائیلی فورسز کی شام کے علاقے قنیطرہ میں ٹینکوں کے ساتھ دراندازی، شہریوں سے پوچھ گچھ 

لیکن اچانک اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کے ایئر بیس کے رن ویز کو نشانہ بنا دیا، جس کی اطلاع نہ واشنگٹن کو دی گئی نہ انقرہ کو۔

ترکیہ نے جب اسرائیلی جیٹس کو دیکھا تو اسے خطرہ محسوس ہوا اور وہ اپنے طیارے فضا میں بھیجنے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ کیونکہ ترکیہ نیٹو کا رکن ہے، اس لیے یہ بحران امریکا کے لیے دو اہم اتحادیوں کے درمیان جنگ بن سکتا تھا۔

ٹام بارک نے بتایا کہ اس حملے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں، پہلی یہ کہ موساد، اسرائیلی فوج اور نیتن یاہو کے دفتر کے درمیان مواصلات کی سنگین غلطی ہوئی۔ اور دوسری یہ کہ اسرائیل نے دانستہ طور پر ترکیہ کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے یہ اقدام کیا۔

بنیادی وجہ یہ ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ شام کی فضائی حدود خالی رہیں تاکہ وہ ایران کے خلاف کارروائیاں کر سکے، جبکہ ترکیہ ایک نئے خودمختار شام کی تشکیل میں اہم ملٹری کردار ادا کر رہا ہے۔ اس واقعے نے دکھا دیا کہ اسد کے بعد کا شام اب خطے کی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک خطرناک محاذ بن چکا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔