امریکہ کی جانب سے پاسداران انقلاب کو اربوں ڈالر کی پیشکش کے ذریعے فوجی بغاوت کی کوشش کا انکشاف

نامور تجزیہ کار پیپے ایسکوبار کے مطابق امریکا نے ایران میں فوجی بغاوت کے لیے پاسدارانِ انقلاب کے حکام کو اربوں ڈالر کی پیشکش کی جسے مسترد کر دیا گیا۔
معروف صحافی اور جیو پولیٹیکل تجزیہ کار پیپے ایسکوبار نے انکشاف کیا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ ایران کے معاملے میں وہی طریقہ کار اپنانے کی کوشش کر رہی ہے، جو اس نے وینیزویلا میں استعمال کیا تھا، لیکن وہ یہ سمجھنے میں ناکام رہی ہے کہ اس کا مقابلہ کس سے ہے۔
ایسکوبار کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے عراقی کردستان کے لیڈر نیچروان بارزانی کے ذریعے پاسدارانِ انقلاب کے ساتھ ایک خفیہ رابطہ بحال کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی طور پر سفارتکاری کے لیے بنائے گئے اس راستے کو بعد میں سینئر عسکری قیادت کو اربوں ڈالر کی پیشکش کے لیے استعمال کیا گیا تاکہ وہ اندرونی طور پر ایرانی قیادت کو کمزور کریں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا نیا جارحانہ ملٹری نظریہ، دفاع کی بجائے پیشگی کارروائی کی حکمت عملی
پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس پیشکش کو فوری طور پر مسترد کر دیا اور یہ معلومات ایرانی سپریم کمانڈ تک پہنچا دیں۔
پیپے ایسکوبار کا کہنا ہے کہ واشنگٹن دراصل ایک ملٹری بغاوت خریدنے کی کوشش کر رہا تھا، مگر وہ یہ بھول گئے کہ پاسدارانِ انقلاب کی قیادت نے دہائیوں تک ایران عراق جنگ لڑی ہے اور وہ ملک کے محافظ ہیں، پیسے لے کر غداری کرنے والے نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب خطے میں ایک نیا اور خودمختار نظام چاہتا ہے۔ ایران اس وقت روس، چین، وسطی ایشیا اور پاکستان کے ساتھ ایک بڑے معاشی نیٹ ورک کا مرکز بن چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری اور دیگر تجارتی راستے امریکی تسلط کا متبادل بن رہے ہیں۔ اسی لیے امریکی ثانوی پابندیاں چین اور روس کو بھی اس جنگ میں لے آئیں گی، اور چین کا 2021 کا اینٹی فارن سینکشنز قانون ایسی پابندیوں کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔ واشنگٹن ایران کو تنہا کرنے کی کوشش میں ان تمام ممالک کو مزید قریب لا رہا ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











