بدھ، 26-اگست،2026
بدھ 1448/03/13هـ (26-08-2026م)

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر بات چیت، عالمی منڈی میں تیل سستا ہوگیا

26 اگست, 2026 15:04

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو ایک بار پھر نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔

 ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور بحری آمدورفت میں مشکلات کم کرنے کے لیے مذاکرات بحال ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد کچھ بہتر ہوا۔ اس پیش رفت کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا اور دونوں اہم بینچ مارکس 2 ڈالر سے زیادہ نیچے آگئے۔

رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 2.30 ڈالر یا 2.6 فیصد کمی کے بعد 86.28 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ کاروباری سرگرمیوں کے دوران برینٹ کی قیمت 13 اگست کے بعد کی کم ترین سطح تک بھی پہنچ گئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ یعنی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی 2.08 ڈالر یا 2.53 فیصد کمی کے ساتھ 80.29 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال میں ممکنہ بہتری نے مارکیٹ کے خدشات کم کیے ہیں۔ فوجیتومی سیکیورٹیز کے تجزیہ کار میتسورو مورا ایشی کے مطابق سرمایہ کار ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کو اہمیت دے رہے ہیں۔ بحری راستے سے متعلق صورتحال بہتر ہونے کی امید نے کچھ سرمایہ کاروں کو تیل فروخت کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

تاہم مارکیٹ میں مکمل اعتماد ابھی بحال نہیں ہوا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال اور مذاکرات کے نتائج کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ اسی وجہ سے کچھ سرمایہ کار قیمتوں میں کمی کے دوران دوبارہ تیل خرید رہے ہیں۔ اس عمل نے قیمتوں میں مزید بڑی کمی کو محدود کیا ہے۔

ایران نے بھی عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے انتظام سے متعلق مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق کردی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی ہفتوں سے بحری آمدورفت کو منظم کرنے کے لیے مختلف سطحوں پر بات چیت جاری تھی۔ حالیہ رابطوں میں آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی نقل و حرکت کو بہتر بنانے کے امکانات پر غور کیا گیا۔

ایران اور عمان نے ایک مشترکہ عارضی بحری راہداری کے معاملے پر بھی بات کی ہے۔ دونوں جانب سے آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کرنے کے معاملے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔ تاہم ان پیش رفت کے باوجود بحری جہازوں کی آمدورفت ابھی معمول کی سطح پر واپس نہیں آئی۔

جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ادارے کلیپر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق منگل کو صرف پانچ کمرشل جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں دو مائع پیٹرولیم گیس کے ٹینکر، ایک بٹومین ٹینکر اور دو خالی پروڈکٹ ٹینکر شامل تھے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 10 دن کے دوران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کی اوسط تعداد تقریباً 15 رہی۔ اس کے مقابلے میں صرف پانچ تجارتی جہازوں کا گزرنا ظاہر کرتا ہے کہ بحری آمدورفت اب بھی معمول سے کافی کم ہے۔ جنگ سے پہلے کے مقابلے میں بھی جہازوں کی نقل و حرکت نمایاں طور پر محدود ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔ اس لیے یہاں بحری آمدورفت میں بہتری یا رکاوٹ کا براہ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔