امریکہ کا ایرانی ایٹمی مراکز کے معائنے کا مطالبہ محض نقصان کا اندازہ لگانے کی کوشش ہے، ایران

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کا شکار ہونے والے ایٹمی مراکز کا معائنہ اس وقت تک نہیں ہو سکتا، جب تک جنگی حالات کا نیا پروٹوکول منظور نہ ہو۔
ایران کے ایٹمی توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی امریکی اور اسرائیلی فوجی حملوں سے متاثرہ ایٹمی مراکز کے معائنے کا مطالبہ اس وقت تک نہیں کر سکتی جب تک جنگی حالات کے لیے باقاعدہ نیا پروٹوکول تیار اور منظور نہ ہو جائے۔
انہوں نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ایجنسی کے ساتھ ایران کے تعلقات پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون کے تحت چل رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : امریکہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاملے پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، امریکی وزیر توانائی
محمد اسلامی نے کہا کہ ایجنسی اس بات سے اچھی طرح واقف ہے کہ جب تک متاثرہ سائنسز کا معائنہ کرنے کی شرائط طے نہیں ہو جاتیں، وہ وہاں جانے کا حق نہیں رکھتی۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ایٹمی مراکز پر حملے نہیں ہوئے وہاں معمول کی چیکنگ جاری ہے، لیکن حملہ شدہ سائٹس کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ ملک ابھی جنگی حالت میں ہے اور ان جگہوں کی سیکیورٹی بحال کی جا رہی ہے۔
انہوں نے ایجنسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تباہ شدہ سائٹس کا معائنہ کا مطالبہ اصل میں امریکی اور اسرائیلی کارروائی کے نقصان کا اندازہ لگانے کی ایک کوشش ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











