ایران جنگ پر امریکی انٹیلی جنس رپورٹس ٹرمپ کی خواہش کے مطابق تبدیل کی گئیں، رپورٹ میں انکشاف

امریکی کانگریس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ صدارتی خواہشات کے مطابق ایران جنگ پر امریکی انٹیلی جنس رپورٹس میں تبدیلیاں کی گئیں۔
امریکی ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز کی قومی سیکیورٹی کمیٹیوں کی تیار کردہ ایک انتہائی خفیہ رپورٹ سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس تجزیوں اور رپورٹس کو تبدیل کیا گیا۔
ان تبدیلیوں کا بنیادی مقصد انٹیلی جنس مواد کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی خواہشات اور پالیسیوں کے مطابق بنانا تھا۔
یہ رپورٹ اس دور سے متعلق ہے، جب ولیم بولٹی نیشنل انٹیلی جنس ڈائریکٹر کے دفتر کے قائم مقام سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق انٹیلی جنس ادارے میں کیے گئے ان اقدامات کے ذریعے ٹرمپ کے فیصلوں کی مخالفت کرنے والے اور روس و ایران کے حوالے سے سخت مؤقف رکھنے والے سینئر حکام اور ماہرین کو عہدوں سے ہٹایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : ڈونلڈ ٹرمپ کا معاشی منصوبہ صرف میڈیا پروپیگنڈا اور نفسیاتی جنگ ہے، ایرانی ذرائع
نیشنل انٹیلی جنس کے دفتر میں ملازمین کی تعداد میں پہلے ہی بڑی کٹوتیاں کی جا چکی ہیں، جہاں تلسی گبارڈ کے دور میں ملازمین کی تعداد 2 ہزار سے کم ہو کر 1300 رہ گئی تھی۔
اب نئے انتظامی تبدیلیوں کے تحت روس، چین اور یورپی یونین کے ماہرین سمیت مزید 400 ملازمین کی برطرفی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے ادارے کا ماہرانہ وجود شدید متاثر ہوا ہے۔
تلسی گبارڈ کو ایران کے ایٹمی پروگرام اور جنگ کے مخالفانہ مؤقف کے باعث وائٹ ہاؤس کے دباؤ پر عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پیشہ ورانہ ماہرین کو نکالنے اور انٹیلی جنس رپورٹس میں تبدیلیوں سے واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اور فوجی فیصلوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












