نیپال اور تبت میں خوفناک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 390 سے متجاوز

ہمالیہ کے سلسلے میں مٹی اور چٹانیں گرنے سے خوفناک سیلاب کے باعث نیپال اور تبت میں 390 سے زائد افراد ہلاک اور 1,500 لاپتہ ہو چکے ہیں۔
ہمالیہ کے پہاڑی علاقے میں مٹی، سنگ ریزوں اور برفانی تودے کا بڑا حصہ دریا میں گرنے کے بعد خوفناک ترین سیلاب آیا، جس کے نتیجے میں نیپال اور چین کے خودمختار علاقے تبت میں تباہی مچ گئی ہے، جہاں اب تک 390 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 1,500 سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔
نیپال کی حکام کے مطابق صرف ان کے ملک میں اب تک 392 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ ہمسایہ علاقے تبت میں بھی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
چین کے وزیراعظم لی چیانگ نے امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے متاثرہ علاقے کا ذاتی دورہ کیا ہے۔ نیپال میں مہم جوئی پر گئے، مختلف ملکوں کے سیکڑوں غیر ملکی سیاحوں سے بھی رابطہ منقطع ہو گیا ہے، جنہیں تلاش کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کیخلاف تمام آپشنز کھلے ہیں، اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، وائٹ ہاؤس کا دعویٰ
سیلاب کی وجہ سے رابطہ سڑکیں اور پل مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جس کے باعث امدادی ٹیموں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
نیپالی فوج اور پولیس کی جانب سے ہیلی کاپٹرز کا استعمال کرتے ہوئے دور دراز علاقوں میں پھنسے لوگوں تک ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء پہنچائی جا رہی ہیں۔ بھارت کی جانب سے بھی نیپال کو امدادی سامان فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس ناگہانی آفت سے 15 کے قریب ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث نیپال میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے۔ نیپال کے سرکاری حکام معیشت کو پہنچنے والے نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ واقعہ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلوبل وارمنگ کے بھیانک اثرات کا نتیجہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












