ایران جنگ سے قبل آئل شیئرز کی خرید و فروخت، ڈونلڈ ٹرمپ کا پورٹ فولیو 15 ملین ڈالر بڑھ گیا

ایران جنگ سے قبل تیل کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے ڈونلڈ ٹرمپ کے ملکیتی پورٹ فولیو میں 15 ملین ڈالر سے زائد اضافے کا انکشاف ہوا ہے۔
امریکی کانگریس کی مشترکہ اقتصادی کمیٹی کی جانب سے جاری کردہ ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران پر حملہ کرنے اور عالمی توانائی کے بحران کو جنم دینے سے ٹھیک پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کے آئل اینڈ گیس پورٹ فولیو میں 15.5 ملین ڈالر تک کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اچانک حملے کی شروعات سے قبل ایکسن موبائل اور شیورون کی بڑی آئل کمپنیوں میں بروقت بھاری سرمایہ کاری کی تھی۔
رپورٹ کی تفصیلات میں بتایا گیا ہے کہ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں آئل اور گیس کے شیئرز کی مد میں 3.6 ملین ڈالر کے شیئرز خریدے گئے۔
یہ بھی پڑھیں : تاریخی کینیڈی سینٹر ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے نہ کیا تو مسمار کر دیں گے، امریکی وزیر تجارت کی دھمکی
اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ حملے کا آغاز کرنے اور تیل کا عالمی بحران پیدا کرنے سے پہلے اپنے ذاتی اثاثوں کو بڑھانے کی کوششیں کی گئیں۔
کمیٹی کے مطابق اس جنگ کے آغاز کے بعد سے عام امریکی شہریوں کو پیٹرولیم مصنوعات کی مد میں تقریباً 71.5 ارب ڈالر اضافی ادا کرنے پڑے ہیں، جو فی گھرانہ 600 ڈالر سے زائد کے اضافی بوجھ کے برابر ہے۔
اس کے علاوہ ایندھن، فضائی کرایوں، خوراک کی قیمتوں، افراطِ زر اور مارگیج کی شرح میں ہونے والے بے تحاشا اضافے نے عام امریکیوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق آئل کمپنیوں سے حاصل ہونے والا یہ 15 ملین ڈالر کا منافع اس مجموعی فائدے کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے خاندان نے ایران کے بحران سے کمایا ہے، جس میں دفاعی شیئرز کی خرید و فروخت، ان سائڈر ٹریڈنگ اور دیگر ذرائع شامل ہیں۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












