نیپال اور چین میں سیلاب سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 686 ہو گئی، 3 ہزار افراد لاپتہ

نیپال اور چین میں تباہ کن سیلاب کے بعد مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں کے تقریباً 900 ملازمین سمیت ہزاروں افراد لاپتہ ہیں، دونوں ممالک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 686 سے تجاوز کر گئی۔
نیپال اور چین کے سرحدی علاقوں میں بدھ کے روز آنے والے قیامت خیز سیلاب نے تباہی مچا دی ہے، جس کے بعد بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
نیپال میں مختلف ہائیڈرو پاور پروجیکٹس پر کام کرنے والے تقریباً 900 ملازمین پانی کے شدید بہاؤ کے باعث لاپتہ ہو گئے ہیں، جن کی تلاش کے لیے ریسکیو ٹیمیں دن رات مصروفِ عمل ہیں۔
امدادی کارکن سرنگوں کے اندر پھنسے افراد تک پہنچنے کے لیے پمپوں کے ذریعے ہوا داخل کر رہے ہیں تاہم ابھی تک اندر موجود کسی شخص سے رابطہ قائم نہیں ہو سکا ہے۔
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 670 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ چین میں بھی 16 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جس سے مجموعی اموات 686 ہو گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد معاہدے کا اصل فاتح ایران ہے، صدر مسعود پزشکیان
نیپالی حکام کو لاشوں کی اتنی بڑی تعداد سنبھالنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ چین کی سرکاری میڈیا ایجنسی نے بتایا ہے کہ فی الحال مزید کسی شخص کے زندہ بچنے کی امید بہت کم دکھائی دے رہی ہے۔
مجموعی طور پر تقریباً 3 ہزار افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں 261 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں، ان غیر ملکیوں میں 18 کا تعلق امریکہ سے ہے۔
متاثرہ خاندان روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں اور سرد خانوں کے باہر اپنے پیاروں کی خبر حاصل کرنے کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔
امریکی حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں انسانی امداد کا حجم 5 لاکھ ڈالر سے بڑھا کر 3.6 ملین ڈالر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
علاقے میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کی وجہ سے لاپتہ افراد کے لواحقین انتہائی کرب ناک انتظار کی کیفیت سے گزر رہے ہیں۔
نیپال اور چین کی فوج اور ایمرجنسی ورکرز جدید آلات کا استعمال کرتے ہوئے ملبے اور سیلابی پانی میں سے پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں، تاہم سخت موسم اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے باعث ریسکیو آپریشن شدید دشواریوں کا شکار ہے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











