پیر، 31-اگست،2026
پیر 1448/03/18هـ (31-08-2026م)

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز پر وفاق سے رپورٹ طلب کر لی

31 اگست, 2026 14:40

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز پر وزیراعظم کو پیش کی جانے والی رپورٹ اور اب تک کی کارروائی کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں پیش انے والے دلخراش واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے دائر درخواست پر اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے سانحہ پمز کو ایک انتہائی خوفناک واقعہ قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اس حادثے میں 14 بچوں کی قیمتی جانیں گئی ہیں۔

عدالت نے وفاقی حکومت کو کیس میں تفصیلی جواب جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم کو پیش کی جانے والی عبوری رپورٹ اور اب تک کی جانے والی انتظامی کارروائی کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے قائم کی گئی دونوں کمیٹیوں میں بیوروکریٹس کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ کوئی بیوروکریٹ اپنے ہی محکمے کے خلاف غیر جانبدارانہ انکوائری کیسے کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : انتہائی مشکل حالات میں پمز کا چارج سنبھالا ہے، مشکلات کا مقابلہ کریں گے، ڈاکٹر محمد سلمان

وکیل نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عدالت میں جو انکوائری رپورٹ پیش کی گئی اس میں کسی فرد یا حکام کی ذمہ داری متعین نہیں کی گئی۔

وکیل کی جانب سے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی واقعے کا حوالہ دیئے جانے پر عدالت نے وضاحت کی کہ وہ کمیشن بھی حکومت نے ہی تشکیل دیا تھا اور عدالت براہِ راست جوڈیشل انکوائری کی ہدایت کس قانون کے تحت دے سکتی ہے، اس کی وضاحت کی جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ سامنے انے کے فوری بعد سیکریٹری صحت کو معطل کر دیا گیا تھا اور فی الحال تیار کی گئی عبوری رپورٹ کی روشنی میں پمز کے متعلقہ آفیشلز کے خلاف معطلی کی کارروائی کی جا چکی ہے۔

چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے استفسار کیا کہ اگر حکومت انتظامی سطح پر ایکشن لے بھی رہی ہے تو کیا اس سے عدالت کے آرڈر جاری کرنے پر کوئی پابندی عائد ہوتی ہے۔

عدالت نے تمام معاملات کی وضاحت کے لیے وفاق سے مکمل رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔