کینیڈا کا نیا امیگریشن منصوبہ، پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے مستقل رہائش کے راستے کھل گئے

کینیڈا نے ہیلتھ کیئر اور تکنیکی شعبوں میں افرادی قوت کی کمی دور کرنے کے لیے نئے امیگریشن منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس سے پاکستانی ماہرین کے لیے راستے کھل گئے ہیں۔
کینیڈا حکومت نے ملک میں طبی خدمات اور دیگر اہم شعبوں میں عملے کی شدید قلت پر قابو پانے کے لیے عالمی سطح پر امیگریشن کی ایک نئی اور آسان پالیسی کا اعلان کیا ہے۔
کینیڈین محکمہ امیگریشن کے اس اقدام سے پاکستان کے ڈاکٹروں، نرسوں، فارماسسٹس، سوشل ورکرز اور لیبارٹری ٹیکنالوجسٹس کے لیے کینیڈا جا کر کام کرنے اور مستقل رہائش حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس پالیسی کا بنیادی مقصد دنیا بھر کے باصلاحیت افراد کو راغب کر کے کینیڈا کے عوامی ڈھانچے کو مضبوط بنانا ہے۔
اس نئی ترجیحی لسٹ میں ہیلتھ کیئر کے ساتھ ساتھ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور تدریس کے شعبے شامل ہیں۔ اس منصوبے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ایکسپریس اینٹری کے روایتی نظام کی نسبت اس مخصوص کیٹیگری میں بہت کم کٹ آف اسکور یا پوائنٹس پر کینیڈا کی مستقل رہائش کے الدعوت نامے دیئے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران جنگ کے 6 ماہ: امریکی تیل کمپنیوں کا ریکارڈ منافع مگر خلیج میں اربوں ڈالر کے اثاثے خطرے میں پڑگئے
درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ ان کے پاس گزشتہ تین سال میں کم سے کم ایک سال کا متعلقہ شعبے میں تجربہ ہو اور انہوں نے انگریزی یا فرانسیسی زبان کا مطلوبہ ٹیسٹ پاس کیا ہو۔
اس ویزے پر پورا خاندان کینیڈا منتقل ہو سکتا ہے، جہاں مفت علاج اور بچوں کی مفت تعلیم کی سہولیات ملیں گی۔ تاہم پاکستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کو کینیڈا پہنچ کر وہاں کی صوبائی کونسلز سے لائسنس حاصل کرنا ہوگا۔
دوسری جانب اسلام آباد کے امیگریشن ماہر میجر ریٹائرڈ بیرسٹر ساجد مجید کا کہنا ہے کہ کینیڈا کا یہ اقدام بہترین ہے مگر اس سے مستفید ہونا پاکستانیوں کے لیے اتنا آسان نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں زیادہ تر نرسنگ عملے کے پاس ڈپلومہ ہوتا ہے جبکہ کینیڈا کو عالمی معیار کی بیچلرز ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ کینیڈا امیگریشن کی درخواست دینے والے تقریباً 80 فیصد پاکستانیوں کو مسترد کر دیا جاتا ہے کیونکہ ان کے پاس عالمہ معیار کی تعلیم کی کمی ہوتی ہے، جبکہ انڈین شہری بیچلرز ڈگری کی بدولت ان مواقع پر جلدی قبضہ کر لیتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومتِ پاکستان اپنے تعلیمی اور نرسنگ کے معیار کو عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالے تو پاکستانی نوجوان اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










