پیر، 31-اگست،2026
پیر 1448/03/18هـ (31-08-2026م)

پمز اسپتال کا نظام گلا سڑا ہے، اصلاحات کے بغیر حالات نہیں بدل سکتے، مصطفیٰ کمال

31 اگست, 2026 15:35

مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ پمز اسپتال میں حالیہ حادثے سے ایک ماہ قبل نرسز ہاسٹل میں بھی آگ لگی تھی، جس کی اطلاع وزارتِ صحت کو نہیں دی گئی تھی۔

وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صحت کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے پمز اسپتال کے انتظامی نظام پر شدید تنقید کی ہے۔

وزیرِ صحت نے انکشاف کیا کہ حال ہی میں پیش انے والے پمز حادثے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ اس واقعے سے ٹھیک ایک ماہ پہلے اسپتال کے نرسز ہاسٹل میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا، لیکن پمز انتظامیہ نے اس کی اطلاع وزارتِ صحت کو دینا مناسب نہ سمجھا۔

مصطفیٰ کمال نے واقعے کی وجوہات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابتدائی طور پر بتایا گیا تھا اے سی سے چنگاری نکلنے کے بعد آگ لگی، جبکہ دوسری جانب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے چیئرمین کو بتایا گیا کہ اے سی خراب نہیں تھا اور آگ کی وجہ کچھ اور تھی۔

یہ بھی پڑھیں : اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ پمز پر وفاق سے رپورٹ طلب کر لی

انہوں نے پمز کے موجودہ ڈھانچے کو گلا سڑا نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ پمز اپنے من مانے قوانین پر چلتا ہے، جس کے تحت ای ڈی صرف پمز کے عملے سے ہی تعینات ہو سکتا ہے، اور نئے ای ڈی کی تعیناتی کے لیے حکومت کو قوانین میں نرمی کرنا پڑی ہے۔

وزیرِ صحت نے اسپتال کے انتظامی ڈھانچے میں اصلاحات کی شدید ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر یہاں سے کسی چپڑاسی کو بھی ہٹایا جائے تو وہ اگلے دن عدالت سے اسٹے آرڈر لے آتا ہے۔ پمز میں حالت یہ ہے کہ ایک شعبے کا سربراہ دوسرے شعبے کے سربراہ سے بات تک نہیں کرتا۔

ان کا کہنا تھا ہائرنگ اور معطل کرنے کا تمام اختیار سی ای او کو دیا جانا چاہیے اور سرکار کو خود اسپتال چلانے کے نظام سے باہر نکل جانا چاہیے، کیونکہ ایک ہزار 156 ارب روپے خرچ کرنے کے بعد بھی حکومت 10 فیصد عوام کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔