منگل، 1-ستمبر،2026
منگل 1448/03/19هـ (01-09-2026م)

پیوٹن کا ایس سی او تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور

01 ستمبر, 2026 19:26

بشکیک: روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی اور انسانی و سماجی تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے تنظیم کو ابھرتی ہوئی کثیر قطبی دنیا کے اہم اور بااثر مراکز میں سے ایک قرار دیا ہے۔

بشکیک میں ایس سی او کونسل آف ہیڈز آف اسٹیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ گزشتہ 25 برسوں کے دوران تنظیم نے نمایاں پیش رفت کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ایس سی او کا قیام 2001 میں روس، چین، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان سمیت چھ ممالک کی مشترکہ کوششوں سے عمل میں آیا تھا۔

روسی صدر کے مطابق، آج ایس سی او نہ صرف یوریشیا بلکہ عالمی سطح پر بھی سب سے بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کے رکن ممالک دنیا کی تقریباً نصف آبادی پر مشتمل ہیں، جبکہ عالمی مجموعی داخلی پیداوار (جی ڈی پی) میں ان کا حصہ ایک تہائی سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس سی او کے دائرۂ کار میں سیاسی، اقتصادی اور انسانی شعبوں میں فعال تعاون رکن ممالک کی پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ پورے یوریشیائی خطے میں امن، استحکام، باہمی اعتماد اور تعاون کو فروغ دے رہا ہے۔

صدر پیوٹن نے امید ظاہر کی کہ بشکیک اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیے جانے والے فیصلوں کا جامع پیکیج ایس سی او کے اندر شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

تجارت اور سرمایہ کاری پر زور

روسی صدر نے ایس سی او کی عملی ترجیحات میں رکن ممالک کے درمیان تجارتی روابط کے مزید فروغ کو اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ تمام رکن ممالک کے لیے فوائد کا باعث بن رہا ہے اور سماجی و اقتصادی ترقی کے ساتھ عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 2025 میں ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ روس کی تجارت 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ باہمی ادائیگیوں میں قومی کرنسیوں کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق ایس سی او ممالک کے ساتھ روسی لین دین میں قومی کرنسیوں کا حصہ اب 98 فیصد سے زیادہ ہو چکا ہے۔

پیوٹن نے ایس سی او بزنس کونسل اور انٹربینک کنسورشیم کے کردار کو بھی سراہا، جو مشترکہ اور باہمی مفاد کے اقتصادی منصوبوں کو آگے بڑھانے میں معاون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم کے تحت قائم کیا جانے والا ترقیاتی بینک مستقبل میں ان کوششوں میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مجوزہ ترقیاتی بینک کو ان مالیاتی نظاموں سے حتی الامکان آزاد ہونا چاہیے جو اقتصادی ذرائع کو بین الاقوامی امور میں یک طرفہ فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

توانائی اور انسانی تعاون

صدر پیوٹن نے 2030 تک ایس سی او کی توانائی تعاون کی حکمت عملی کے مطابق مربوط اور متوازن توانائی پالیسی پر عمل جاری رکھنے کو تمام رکن ممالک کے مشترکہ مفاد میں قرار دیا۔

انہوں نے تنظیم کے تحت ثقافتی اور انسانی تعاون میں ہونے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور کہا کہ تعلیم، صحت، ماحولیاتی تحفظ، سائنس اور نوجوانوں کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں باہمی روابط مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔

پیوٹن نے ایس سی او یونیورسٹی کو بھی کامیاب تعاون کی ایک مثال قرار دیا، جس سے رکن ممالک کی 100 سے زائد جامعات وابستہ ہیں۔ انہوں نے تنظیم کے زیر اہتمام خواتین کے فورمز کا بھی ذکر کیا، جن کا مقصد عوامی، سیاسی، کاروباری اور سماجی زندگی میں خواتین کے کردار کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

روس 2028 میں ورلڈ نومیڈ گیمز کی میزبانی کرے گا

روسی صدر نے کرغزستان میں جاری ورلڈ نومیڈ گیمز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایس سی او کے متعدد رکن ممالک، بشمول روس، ان مقابلوں میں شرکت کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ روس 2028 میں قازان میں اگلے ورلڈ نومیڈ گیمز کی میزبانی کے لیے تیار ہے اور خواہش مند ممالک کی ٹیموں کا خیرمقدم کرے گا۔

پیوٹن نے ایس سی او کے رکن ممالک سے تعلق رکھنے والی ثقافتی اور فنونِ لطیفہ کی شخصیات کو ستمبر کے اواخر میں سینٹ پیٹرزبرگ میں منعقد ہونے والے بین الاقوامی متحدہ ثقافتوں کے فورم میں شرکت کی دعوت بھی دی۔

یوریشیا میں امن و استحکام پر زور

اپنے خطاب کے اختتام پر صدر پیوٹن نے کہا کہ بشکیک اجلاس پورے یوریشیا میں سلامتی، پُرامن ترقی اور خوش حالی کے لیے ایس سی او کے دائرۂ کار میں کثیرالجہتی تعاون کو مزید آگے بڑھانے میں مدد دے گا۔

انہوں نے یکم ستمبر کی تاریخی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ دن دوسری عالمی جنگ کے آغاز کی یاد دلاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلح تنازعات کو ہوا دینے کے رجحان کو بین الاقوامی طرزِ عمل کا حصہ بننے سے روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔

روسی صدر نے کہا کہ ایس سی او کے رکن ممالک کی مشترکہ کوششیں بین الاقوامی استحکام کے فروغ اور مستقبل میں تنازعات کی روک تھام کی سمت میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتی ہیں۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔