جمعرات، 3-ستمبر،2026
بدھ 1448/03/20هـ (02-09-2026م)

آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہاز گزرنے کے امریکی دعوے ٹریکنگ ڈیٹا نے غلط ثابت کردیئے

02 ستمبر, 2026 09:45

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے 17 ملین بیرل خام تیل گزرا، جو نجی ادارے کے ابتدائی اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے 17 ملین بیرل خام تیل کی نقل و حمل ہوئی ہے۔ ایران جنگ کے بعد اس اہم عالمی سمندری گزرگاہ سے خام تیل کی اتنی بڑی مقدار میں ترسیل پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی۔

امریکی وزیر توانائی کا بیان اعداد و شمار بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے نجی ادارے کے ابتدائی اعداد و شمار سے مطابقت نہیں رکھتا۔

جہاز رانی کا ڈیٹا مرتب کرنے والے ادارے کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیر کے روز صرف 5 تجارتی جہازوں نے آبنائے ہرمز کو عبور کیا، جبکہ ان کے ریکارڈ میں کسی بھی مایع مواد یا تیل لے جانے والے ٹینکر کا اندراج نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ اور ایران کے تازہ حملوں کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

اس تفاوت پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے تیل بردار جہاز سمندر میں سفر کے دوران اپنے لوکیشن ٹرانپونڈر یا سگنل دینے والی ڈیوائسز بند کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ ٹریکنگ سسٹمز اور نجی اداروں کے ڈیٹا میں ظاہر نہیں ہوتے۔

امریکی وزیر توانائی پہلے بھی یہ مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ جہاز رانی پر نظر رکھنے والی کمپنیوں کے اندازوں سے کہیں زیادہ مقدار میں خام تیل آبنائے ہرمز کے راستے آگے بھیجا جا رہا ہے۔

دوسری جانب اسی ادارے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ منگل کے روز آبنائے ہرمز سے صرف 4 بحری جہازوں نے سفر کیا، جو کہ عام طور پر 10 روزہ اوسط یعنی تقریباً 13 جہازوں کی روزانہ کی نقل و حرکت سے خاصا کم ہے۔

منگل کو گزرنے والے ان 4 جہازوں میں ایک انتہائی بڑا خام تیل بردار ٹینکر، ایک پانامیکس ٹینکر، ایک کامسار میکس کیریئر اور ایک درمیانے درجے کا ٹینکر شامل تھا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ بحری جہازوں کی جانب سے سگنل بند رکھنے کی وجہ سے ان اعداد و شمار میں بعد میں تبدیلی یا تصحیح ہو سکتی ہے۔

Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔