جمعرات، 3-ستمبر،2026
جمعرات 1448/03/21هـ (03-09-2026م)

فجیرہ ماڈل پر حب آئل سٹی کا منصوبہ، پاکستان کی توانائی سلامتی مضبوط بنانے کا فیصلہ

03 ستمبر, 2026 15:49

اسلام آباد: متحدہ عرب امارات کے فجیرہ اور سنگاپور کی طرز پر پاکستان نے بلوچستان کے حب کو ایک مربوط آئل اور انرجی ہب میں تبدیل کرنے کا ایک اہم منصوبہ تیار کیا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر خام تیل، موگاس، ایل پی جی اور ایل این جی کے ذخائر و ٹرمینلز، پائپ لائنز، بندرگاہی سہولیات اور مستقبل میں ریفائنری و پیٹروکیمیکل تنصیبات قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق مجوزہ ’آئل سٹی‘ کا روڈ میپ حتمی شکل اختیار کرچکا ہے اور اسے رواں ماہ کے آخر تک وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے غور کے لیے پیش کیے جانے کی توقع ہے۔

اس منصوبے کا مقصد اسٹریٹجک اور کمرشل ذخائر میں اضافہ کرتے ہوئے پاکستان کی توانائی سلامتی کو مضبوط بنانا اور درآمد شدہ خام تیل، بندرگاہوں، ریفائنریز، ذخیرہ گاہوں اور ملک کے بالائی علاقوں کی منڈیوں کے درمیان ایک مربوط سپلائی چین قائم کرنا ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں 3 لاکھ ٹن خام تیل اور ایک لاکھ ٹن موگاس ذخیرہ کرنے کی گنجائش رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ بانڈڈ اور اسٹریٹجک ذخائر میں خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی مجموعی گنجائش 15 لاکھ ٹن تک بڑھائی جاسکے گی۔

بعد کے مراحل میں مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت تقریباً 20 لاکھ ٹن تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔

مجوزہ حب سہولت کو موجودہ اور منصوبہ بندی کے مرحلے میں موجود اہم پائپ لائنز سے منسلک کیا جائے گا۔ فرنس آئل سے منسلک ایشیا پٹرولیم لائن کو خام تیل کی ترسیل کے لیے تبدیل کرنے کی تجویز ہے، جبکہ KNIK خام تیل پائپ لائن کو حب سے PARCO مڈ کنٹری ریفائنری تک منسلک کیا جائے گا۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ تک ایک نئی خام تیل پائپ لائن بچھانے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جبکہ وائٹ آئل پائپ لائن کے ذریعے پٹرولیم مصنوعات کو ملک کے بالائی علاقوں تک پہنچانے کا راستہ فراہم کیا جائے گا۔

منصوبے میں اہم سمندری انفرااسٹرکچر بھی شامل ہے، جس میں درآمد اور برآمد دونوں کے لیے دو طرفہ سنگل پوائنٹ مورنگ (SPM) اور خام تیل و پٹرولیم مصنوعات کے لیے علیحدہ زیرِ سمندر پائپ لائنز شامل ہوں گی۔

مجوزہ SPM کی سالانہ تھروپٹ صلاحیت ڈیڑھ کروڑ ٹن ہوگی اور یہ ویری لارج کروڈ کیریئرز (VLCCs) کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا۔

حکام کے مطابق مجوزہ انفرااسٹرکچر کا مقصد بین الاقوامی تیل کی سپلائی میں ممکنہ تعطل سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو زیادہ لچک فراہم کرنا اور اسٹریٹجک و کمرشل ذخائر کے ذریعے ایک بڑا حفاظتی بفر قائم کرنا ہے۔

مجوزہ توانائی سلامتی کا فریم ورک تین بنیادی حصوں پر مشتمل ہوگا: اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر، کمرشل ذخائر اور توانائی کے انفرااسٹرکچر میں مقامی صلاحیتوں کا فروغ۔

اسٹریٹجک پٹرولیم ذخائر ہنگامی حالات میں استعمال کے لیے رکھے جائیں گے، جبکہ کمرشل ذخائر میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریز اور بانڈڈ اسٹوریج میں موجود ذخائر شامل ہوں گے۔

تیسرے حصے کے تحت ملکی پیداوار بڑھانے اور اپ اسٹریم، مڈ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم انفرااسٹرکچر کو ترقی دینے پر توجہ دی جائے گی۔

حب منصوبہ مستقبل میں صرف تیل ذخیرہ کرنے اور اس کی ترسیل تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے ایک وسیع صنعتی اور لاجسٹکس زون میں تبدیل کرنے کی بھی تجویز ہے۔

منصوبے کے مطابق حب میں PARCO کے پاس پہلے ہی 1,811 ایکڑ اراضی دستیاب ہے جبکہ مزید 7,000 ایکڑ اراضی مستقبل کی توسیع کے لیے ممکنہ طور پر دستیاب ہوسکتی ہے۔

مستقبل کے انفرااسٹرکچر میں اضافی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر، ایل پی جی اسٹوریج اور ٹرمینل، ایل این جی اسٹوریج اور ٹرمینل، پیٹروکیمیکل یونٹس اور صنعتی و لاجسٹکس زونز شامل ہیں۔

منصوبے میں کم از کم ایک لاکھ بیرل یومیہ صلاحیت کی ریفائنری قائم کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔

مجوزہ منصوبے کے لیے فجیرہ اور سنگاپور جیسے توانائی مراکز کو مثال بنایا گیا ہے، جہاں ذخیرہ گاہوں، سمندری انفرااسٹرکچر، ریفائننگ، تجارت اور لاجسٹکس کو ایک دوسرے سے مربوط نظام کے طور پر ترقی دی گئی ہے۔

حب کی مجوزہ ترقی کے ذریعے پاکستان کے پٹرولیم سپلائی چین میں بھی اسی نوعیت کا مربوط نظام قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کراچی اور بحیرہ عرب سے قربت کے باعث حب کو درآمد شدہ خام تیل، ریفائنریز اور ملک کے اندر پٹرولیم مصنوعات کی ترسیل کے نیٹ ورک سے جوڑنے کی تجویز ہے۔

منصوبے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ صرف اسٹریٹجک ذخائر پاکستان کی توانائی سے متعلق کمزوریوں کا حل نہیں ہیں۔ ہنگامی ذخائر کے ساتھ کمرشل اسٹاک، سپلائی کے متنوع ذرائع، مناسب ریفائننگ صلاحیت اور قابل اعتماد پائپ لائن و بندرگاہی انفرااسٹرکچر بھی ضروری ہوگا۔

روڈ میپ پر رواں ماہ کے آخر میں وفاقی سطح پر غور متوقع ہے۔ منصوبے پر پیش رفت کی صورت میں اس کے بعد فنانسنگ، ریگولیٹری انتظامات، ادارہ جاتی ذمہ داریوں اور مختلف انفرااسٹرکچر منصوبوں کی مرحلہ وار تکمیل سے متعلق تفصیلی فیصلے کرنا ہوں گے۔

اگر اسے مرحلہ وار نافذ کیا گیا تو حب منصوبہ پاکستان کے لیے پٹرولیم ذخیرہ اور لاجسٹکس کا ایک اہم مرکز بننے کے ساتھ بلوچستان میں ایک بڑے توانائی اور صنعتی کلسٹر کی بنیاد بھی فراہم کرسکتا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔