متحدہ عرب امارات کی ویزا پالیسی پر افواہیں بے بنیاد، پاکستانیوں کو ویزوں کا اجرا جاری ہے: دفتر خارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کی ویزا پالیسی کے حوالے سے سامنے آنے والی افواہوں اور بعض میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی حقائق ان دعوؤں سے مختلف ہیں اور پاکستانی شہریوں کو متحدہ عرب امارات کے ویزے جاری کیے جا رہے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں کو جاری کیے جانے والے ویزوں کی تعداد وہاں سے واپس بھیجے گئے پاکستانیوں کی تعداد سے تقریباً سات گنا زیادہ ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کے لیے امارات کی ویزا پالیسی کے حوالے سے مکمل پابندی یا بڑے پیمانے پر ویزوں کی بندش کی اطلاعات درست نہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق گزشتہ پانچ سال کے دوران اوسطاً ہر سال 7 سے 8 ہزار پاکستانی مختلف وجوہات کی بنیاد پر متحدہ عرب امارات سے واپس بھیجے گئے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ان افراد کو واپس بھیجے جانے کی وجوہات یکساں نہیں تھیں بلکہ ان میں مختلف نوعیت کے معاملات شامل تھے۔
ترجمان کے مطابق واپس بھیجے جانے والے پاکستانیوں میں ایسے افراد شامل تھے جو غیر قانونی طور پر متحدہ عرب امارات میں مقیم تھے، بعض افراد تین ماہ کے بعد غائب ہوگئے اور بعد ازاں غیر قانونی حیثیت اختیار کرگئے، جبکہ کچھ افراد لڑائی جھگڑوں اور دیگر معمولی جرائم میں ملوث پائے گئے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ انفرادی طور پر بعض پاکستانی شہریوں کے خلاف ہونے والی کارروائی کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے مجموعی ویزا پالیسی قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
ترجمان نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس کے برعکس گزشتہ پانچ سال کے دوران تقریباً 40 سے 50 ہزار پاکستانی شہریوں کو متحدہ عرب امارات میں روزگار کے مواقع فراہم ہوئے اور انہیں ویزے جاری کیے گئے۔
یہ اعداد و شمار اس تاثر کی بھی نفی کرتے ہیں کہ متحدہ عرب امارات نے پاکستانی شہریوں کے لیے روزگار یا ویزوں کا سلسلہ مکمل طور پر روک دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان عوامی سطح پر روابط اور پاکستانی افرادی قوت کی اماراتی معیشت میں موجودگی طویل عرصے سے اہم رہی ہے۔
متحدہ عرب امارات پاکستانیوں کے لیے روزگار کا ایک اہم مرکز ہے اور بڑی تعداد میں پاکستانی مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ترسیلاتِ زر کے حوالے سے بھی خلیجی ممالک میں مقیم پاکستانی کمیونٹی پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دفتر خارجہ کی وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سوشل میڈیا اور بعض میڈیا رپورٹس میں متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستانی شہریوں کے لیے ویزوں سے متعلق مختلف دعوے گردش کر رہے تھے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے اعداد و شمار کے ذریعے واضح کیا کہ ویزوں کے اجرا اور واپس بھیجے جانے والے افراد کے اعداد و شمار میں واضح فرق موجود ہے، اس لیے چند افراد کی خلاف ورزیوں یا ملک بدری کے واقعات کو تمام پاکستانی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی سے جوڑنا مناسب نہیں۔
پاکستانی شہریوں کے لیے اہم پیغام یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات کا سفر کرنے والے افراد وہاں کے قوانین، ویزا شرائط اور قیام سے متعلق ضوابط کی مکمل پابندی کریں تاکہ کسی بھی قانونی پیچیدگی سے بچا جاسکے۔
دفتر خارجہ کے بیان سے یہ امر بھی واضح ہوتا ہے کہ پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان افرادی قوت، روزگار اور عوامی روابط کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور ویزوں کے حوالے سے گردش کرنے والی عمومی نوعیت کی افواہوں کو سرکاری اعداد و شمار کی روشنی میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












