اتوار، 20-ستمبر،2026
اتوار 1448/04/09هـ (20-09-2026م)

پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کردی گئی

16 ستمبر, 2026 14:19

پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کردی گئی ہے۔

حکومت نے مختلف قیمتوں والے موبائل فونز کے لیے نئے ڈیوٹی سلیب مقرر کیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد مہنگے اور درآمدی فونز کی قیمتوں میں کمی کی امید پیدا ہوگئی ہے۔

نئے سلیب کے مطابق 30 ڈالر تک مالیت کے موبائل فون پر ریگولیٹری ڈیوٹی 300 روپے سے کم کرکے 240 روپے کردی گئی ہے۔ 30 سے 100 ڈالر تک کے فون پر ڈیوٹی 3 ہزار روپے سے کم کرکے 2 ہزار 400 روپے مقرر کی گئی ہے۔

اسی طرح 100 سے 200 ڈالر تک مالیت کے موبائل فون پر ڈیوٹی 7 ہزار 500 روپے سے کم کرکے 6 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ 200 سے 350 ڈالر تک کے فون پر یہ ڈیوٹی 11 ہزار روپے سے کم ہوکر 8 ہزار 800 روپے رہ گئی ہے۔

350 سے 500 ڈالر تک مالیت کے موبائل فونز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15 ہزار روپے سے کم کرکے 12 ہزار روپے کردی گئی ہے۔ سب سے زیادہ قیمت والے فونز کے لیے بھی ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔ 500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے موبائل فون پر ڈیوٹی 22 ہزار روپے سے کم کرکے 17 ہزار 600 روپے فی فون مقرر کردی گئی ہے۔

اس طرح 500 ڈالر سے زیادہ قیمت والے موبائل فون پر فی فون 4 ہزار 400 روپے کی کمی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ بعض موبائل فونز پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بھی کم کی گئی ہے۔ اسے 6 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کردیا گیا ہے۔ CKD اور SKD حالت میں درآمد ہونے والے موبائل فونز پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی 5 فیصد سے کم کرکے 4 فیصد کردی گئی ہے۔

کیا موبائل فون واقعی سستے ہوں گے؟

ڈیوٹی میں کمی کے بعد صارفین کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ موبائل فون کی مارکیٹ قیمت میں بھی کمی ہوگی یا نہیں۔ ڈیوٹی کم ہونے سے قیمتوں میں کمی کا امکان موجود ہے۔ تاہم ضروری نہیں کہ ڈیوٹی میں جتنی کمی ہوئی ہے، موبائل فون کی قیمت بھی اتنی ہی کم ہوجائے۔

درآمدی موبائل فون کی حتمی قیمت کئی عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ ان میں کسٹمز ڈیوٹی، دیگر ٹیکسز، ڈالر کی شرح تبادلہ، درآمدی اخراجات اور درآمد کنندگان و ڈیلرز کا منافع شامل ہے۔ اس لیے مارکیٹ میں اصل ریلیف ان تمام عوامل کی صورتحال پر منحصر ہوگا۔

موبائل فون انڈسٹری کے ماہر خرم عباس کے مطابق ڈیوٹی میں کمی سے صارفین کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم یہ فائدہ اس بات پر منحصر ہے کہ درآمد کنندگان اور ریٹیلرز ڈیوٹی میں کمی کو فون کی حتمی قیمت میں کس حد تک منتقل کرتے ہیں۔

ان کے مطابق 500 ڈالر سے زیادہ مالیت کے فون پر ڈیوٹی میں 4 ہزار 400 روپے کی کمی کا مطلب یہ نہیں کہ صارف کو لازماً اتنی ہی رقم کا ریلیف ملے گا۔ موبائل فون کی قیمت میں دیگر ٹیکسز، درآمدی اخراجات اور کاروباری مارجن بھی شامل ہوتے ہیں۔

درآمدی موبائل فونز کی طلب میں اضافہ

حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان میں موبائل فونز کی درآمد پہلے ہی بڑھ رہی ہے۔ مالی سال 2025-26 کے دوران اسمارٹ فونز اور سیلولر فونز کی مجموعی درآمد تقریباً 1.888 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

گزشتہ مالی سال میں موبائل فونز کی درآمد تقریباً 1.497 ارب ڈالر رہی تھی۔ اس طرح ایک سال کے دوران درآمدات میں تقریباً 391 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مکمل تیار حالت میں درآمد کیے جانے والے موبائل فونز، یعنی CBU فونز کی درآمد میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران ان فونز کی درآمدی مالیت بڑھ کر 357.7 ملین ڈالر ہوگئی۔

مقامی موبائل صنعت پر بھی اثر پڑے گا

حکومت کی نئی ٹیرف پالیسی کا تعلق صرف درآمدی موبائل فونز سے نہیں بلکہ مقامی موبائل مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ سے بھی ہے۔ پاکستان میں موبائل ڈیوائسز کی مقامی تیاری کے لیے 2020-25 کی پالیسی اپنی مدت مکمل کرچکی ہے۔

نئی موبائل ڈیوائس مینوفیکچرنگ پالیسی تاحال وفاقی حکومت کی منظوری کی منتظر ہے۔ ایسے میں درآمدی موبائل فونز پر ڈیوٹی میں کمی مقامی صنعت کے لیے بھی اہم پیش رفت سمجھی جارہی ہے۔

اگر درآمدی فونز کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو صارفین کو مختلف برانڈز اور ماڈلز میں زیادہ انتخاب مل سکتا ہے۔ دوسری جانب مقامی اسمبلنگ اور مینوفیکچرنگ کمپنیوں کو مکمل تیار درآمدی فونز کے ساتھ مقابلے کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

Catch all the سائنس و ٹیکنالوجی News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔