ایران جنگ کا خواہاں نہیں، امریکی جارحیت کے باوجود مذاکرات اور سفارت کاری کیلئے تیار ہیں، ایرانی صدر

ایران کے صدر نے واضح کیا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ جنگ کا خواہاں نہیں ہے، عالمی قوانین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مذاکرات اور معاہدے کے لیے مکمل تیار ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے فاکس نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ایران نے کبھی جنگ کا انتخاب نہیں کیا بلکہ جنگ مسلط کی گئی ہے، تہران جنگ کا ہرگز خواہاں نہیں ہے۔ ہمارے سپریم لیڈر،سائنس دانوں اور فوجی کمانڈرز کو شہید کیا گیا۔ ایران واشنگٹن کے ساتھ اسلام آباد مفاہمتی معاہدے پر آگے بڑھنے کے لیے تیار ہے۔
ایرانی صدر نے واضح کیا کہ یہ امریکہ کو طے کرنا ہے کہ وہ جنگ کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے یا نہیں۔ ہمیں کوئی مسئلہ نہیں، ہم نے صدر ٹرمپ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔ اس معاملے پر مذاکرات کیے جارہے ہیں، وہ عالمی قانون کے دائرے میں ہے، اس کے تحت جو ہمارا جائز حق بنتا ہے، وہی ہمارا مطالبہ ہے۔ ہم نے کبھی اس سے زیادہ کچھ نہیں مانگا، اسی بنیاد پر ہم معاہدے کے خواہاں ہیں۔
60 فیصد افزودہ یورینیم کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک عالمی قانون اور جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت اپنی تمام تر ذمہ داریوں کو پورا کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں : اگر ایران پر حملہ نہ کرتے تو ہم مر چکے ہوتے، نیتن یاہو کا اقوام متحدہ میں جارحانہ خطاب، ناقدین پر شدید تنقید
علاقائی تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حوثی ملیشیا اپنے فیصلوں میں مکمل طور پر خودمختار ہیں اور یمنی گروپ اپنے اقدامات کے لیے خود ذمہ دار ہے، وہ تہران سے احکامات وصول نہیں کرتے۔
مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم آبی گزرگاہ کو بند نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے مجتبیٰ خامنه ای کی صحت کے حوالے سے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں ان سے ذاتی طور پر ملاقات کی ہے اور وہ مکمل طور پر صحت مند اور حکومت چلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکہ نے سفارت کاری کا راستہ اپنانے کی بجائے پہلے بمباری کی اور تمام راستے بند کیے۔
ایرانی صدر نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کو معاشی مسائل کا سامنا ہے، تاہم وہ ملکی بقا اور دفاع کے لیے ہر قسم کی مشکلات برداشت کرنے کو تیار ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر امریکی حکومت عالمی قانونی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے معاہدہ کرنا چاہتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، بصورت دیگر امریکی انتخابات ہوں یا نہ ہوں، اس سے تہران پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












