امریکہ پر بھروسہ کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی، بحران کا حل طاقت کے بجائے سفارت کاری میں ہے، ایرانی صدر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ پچھلے مذاکرات کے بعد حملوں اور پابندیوں کا سامنا کرنے کی وجہ سے تہران اب واشنگٹن کے ساتھ بات چیت پر مزید بھروسہ نہیں کرتا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں واضح کیا ہے کہ ایران اب امریکہ کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور مذاکرات پر سے مکمل اعتماد کھو چکا ہے، کیونکہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد بھی تہران کو حملوں اور سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
صدر پزشکیان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس امریکی فریق پر بھروسہ کرنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی اور یہ سمجھنا مشکل ہے کہ اس کے ساتھ کس بنیاد پر کوئی پائیدار سمجھوتہ طے پایا جا سکتا ہے۔
صدر پزشکیان نے کہا کہ قطر اور پاکستان کے توسط سے ثالثی کا عمل جاری ہے اور یہ تمام پیغامات واشنگٹن تک پہنچائے جا رہے ہیں۔ جاری مذاکرات جون میں طے پانے والے پچھلے سمجھوتے کی بنیاد پر ہیں اور واشنگٹن کو اس معاہدے پر اپنے مؤقف کی مکمل وضاحت کرنا ہوگی جو پچھلے ماہ ختم ہو چکا تھا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کا ذمہ دار ایران نہیں ہے۔ اصل میں امریکہ نے تہران کے راستے بند کیے تھے اور یہ بندش ان بند راستوں کے خلاف ایک فطری ردعمل کے سوا کچھ نہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق شرائط پر امریکہ کے حتمی جواب کا انتظار ہے، ایرانی وزیر خارجہ
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے گفت و شنید اور سفارت کاری میں ہے اور جنگ ختم ہوتے ہی تجارتی جہاز رانی کے لیے راستہ دوبارہ کھول دیا جائے گا۔
ایرانی صدر نے امریکہ کو خطے میں جارحیت کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایران نے گزشتہ دو سو سال کے دوران کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا، تاہم امریکہ اور اسرائیل نے اپنے مفادات کی خاطر خطے کے دیگر ممالک کو اس جنگ میں دھکیلا تاکہ وہ اسلامی نظام کو چند دنوں میں ختم کر سکیں، لیکن تہران نے امریکی و اسرائیلی حملوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آئندہ بھی پوری قوت سے کھڑا رہے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں امن اور سلامتی کے قیام کے لیے کسی بیرونی پولیس مین کی کوئی ضرورت نہیں ہے، بلکہ خطے کے تمام ممالک باہمی تعاون کے ذریعے امن برقرار رکھ سکتے ہیں۔
یمن اور سعودی عرب کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یمن میں حوثیوں کی کارروائیوں کا ایران سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور ایران ہر اس شخص کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے جو ناانصافی کا شکار ہوتا ہے۔
انہوں نے یمن اور سعودی عرب کے درمیان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بھائی کو بھائی کے خلاف نہیں لڑنا چاہیے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








