چپس اور نمکو کی طلب بار بار کیوں ہوتی ہے؟ اسنیکس کی عادت چھوڑنے کا آسان طریقہ سامنے آگیا

چپس، نمکو، پکوڑے اور دیگر نمکین چیزیں بہت سے لوگوں کو پسند ہوتی ہیں۔
بعض افراد کو دن میں کئی بار ایسی چیزیں کھانے کا دل کرتا ہے۔ اگر یہ عادت روزانہ کی خوراک کا حصہ بن جائے تو صحت کے لیے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں، خاص طور پر جب پیک شدہ اور زیادہ نمک والی غذائیں مسلسل استعمال کی جائیں۔
نمکین چیز کھانے کی خواہش ہمیشہ حقیقی بھوک کی وجہ سے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات پیاس، کھانے کے درمیان لمبا وقفہ یا عادت بھی اس کی وجہ بن سکتی ہے۔ اس لیے جب اچانک چپس یا نمکو کھانے کا دل کرے تو فوراً اسنیک لینے کے بجائے پہلے ایک گلاس پانی پینا ایک آسان قدم ہوسکتا ہے۔
دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینا بھی ضروری ہے۔ پانی پینے کے بعد کچھ دیر انتظار کریں اور دیکھیں کہ واقعی بھوک محسوس ہورہی ہے یا صرف نمکین چیز کھانے کی خواہش ہے۔ اگر بھوک برقرار رہے تو متوازن غذا لینا بہتر ہے۔
نمکین اسنیکس کی عادت کم کرنے کے لیے کھانے کا معمول بھی بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ خوراک میں پروٹین اور فائبر والی چیزیں شامل کرنے سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا رہنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دالیں، انڈے، دہی، سبزیاں اور مناسب مقدار میں خشک میوہ جات اس حوالے سے بہتر انتخاب ہوسکتے ہیں۔
بعض افراد نمک کی طلب پوری کرنے کے لیے زبان پر براہِ راست نمک رکھنے جیسے گھریلو ٹوٹکے بھی استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اضافی نمک استعمال کرنا مناسب نہیں۔ زیادہ سوڈیم والی خوراک بلڈ پریشر بڑھا سکتی ہے اور طویل مدت میں صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔ اس لیے نمک کو براہِ راست زبان پر رکھنے کو نمک کی طلب ختم کرنے کے محفوظ یا ضروری طریقے کے طور پر اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اگر چپس یا نمکو کھانے کا بہت زیادہ دل کرے تو پیک شدہ اسنیکس کے بجائے نسبتاً بہتر متبادل استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بھنے ہوئے چنے، کم نمک والے مکھانے، سادہ پاپ کارن اور مناسب مقدار میں بغیر نمک کے خشک میوہ جات بہتر انتخاب ہوسکتے ہیں۔ گھر میں تیار کیے گئے ہلکے نمک والے اسنیکس بھی ایک متبادل ہیں۔
کھانے کی پیکنگ بھی اس عادت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ چپس یا نمکو کا بڑا پیکٹ سامنے رکھنے کے بجائے چھوٹی مقدار الگ نکال لینا زیادہ بہتر ہے۔ اس طرح ضرورت سے زیادہ کھانے سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
اگر کسی شخص کو مسلسل اور غیر معمولی طور پر نمکین چیزیں کھانے کی شدید خواہش رہتی ہے تو اسے صرف عادت سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ خاص طور پر اگر اس کے ساتھ کمزوری، چکر، غیر معمولی پیاس یا دیگر علامات بھی موجود ہوں تو ڈاکٹر یا ماہر غذائیت سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










