پہیلیاں اور معمے حل کرنے سے یادداشت پر کیا اثر پڑتا ہے؟

The Easiest Way to Improve Memory at Any Age Has Been Revealed
روزمرہ زندگی میں چیزیں، نام یا مختلف تفصیلات بھول جانا عام بات ہوسکتی ہے، خاص طور پر جب انسان مصروف زندگی گزار رہا ہو۔ تاہم بار بار بھولنے کی شکایت بعض اوقات یادداشت یا دماغی کارکردگی میں تبدیلی کی طرف بھی اشارہ کرسکتی ہے۔
یادداشت پر عمر اور جینیاتی عوامل کے ساتھ ساتھ غذا، جسمانی سرگرمی اور طرز زندگی بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے عمر بڑھنے کے ساتھ دماغ کو متحرک رکھنے والی سرگرمیوں کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایک طبی تحقیق میں اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ غذا، ورزش اور ذہنی سرگرمیوں جیسی عادات عمر رسیدہ افراد کی دماغی کارکردگی پر کس طرح اثر انداز ہوسکتی ہیں۔
تحقیق میں 60 سے 85 سال کی عمر کے 11 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔ شرکا کی دماغی صلاحیتوں کا جائزہ تحقیق کے آغاز میں لیا گیا اور بعد میں انہیں مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا۔
ایک گروپ کو غذا، جسمانی ورزش اور دماغ کو متحرک رکھنے والی سرگرمیوں میں شامل کیا گیا، جبکہ دوسرے گروپ میں جسمانی سرگرمی اور بہتر غذا کے ساتھ پہیلیاں اور معمے حل کرنے جیسی ذہنی مشقوں کو بھی شامل کیا گیا۔
تیسرے گروپ کے افراد کو ان سرگرمیوں کے بجائے نرسوں کے ساتھ ٹیلی فون سیشنز میں شامل کیا گیا۔
ایک سال کے بعد تینوں گروپس میں دماغی ٹیسٹوں کی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی۔ تحقیق کے مطابق پہلے گروپ کے 28.4 فیصد افراد میں دماغی تنزلی کا عمل رکنے کی علامات سامنے آئیں، دوسرے گروپ میں یہ شرح 32.8 فیصد جبکہ تیسرے گروپ میں 31.6 فیصد رہی۔
تحقیق میں خاص طور پر اس گروپ کی کارکردگی نمایاں رہی جس میں جسمانی سرگرمی، بہتر غذا کے ساتھ پہیلیاں اور معمے حل کرنے جیسی دماغی ورزشیں شامل تھیں۔
اس گروپ کے افراد نے دماغی ٹیسٹوں میں نسبتاً زیادہ اسکور حاصل کیا جبکہ معمولی دماغی تنزلی میں تقریباً 8 فیصد کمی دیکھی گئی۔
اسی طرح اس گروپ میں سنگین نوعیت کی دماغی تنزلی کی شرح میں بھی 18 فیصد کمی کا مشاہدہ کیا گیا۔
محققین کے مطابق دماغ کی لچک اسے مسلسل متحرک رکھنے کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ ان کے مطابق پہیلیاں اور معمے جیسی سرگرمیوں کو روزمرہ معمول کا حصہ بنانا نسبتاً آسان ہے اور یہ دماغی سرگرمی کو برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
تحقیق کے نتائج یہ اشارہ دیتے ہیں کہ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی صحت کے ساتھ دماغ کو فعال رکھنے والی سرگرمیوں پر بھی توجہ دینا اہم ہوسکتا ہے۔ تاہم کسی بھی مسلسل یا تشویشناک یادداشت کی تبدیلی کی صورت میں اسے صرف مصروفیت یا عمر کا نتیجہ سمجھنے کے بجائے طبی ماہر سے مشورہ کرنا زیادہ مناسب ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












