کالا نمک واقعی صحت کیلئے فائدہ مند ہے؟ استعمال سے پہلے یہ حقیقت جان لیں

کھانے میں نمک ذائقہ بڑھانے کے ساتھ جسم کے لیے بھی اہم ہے۔ تاہم نمک میں موجود سوڈیم کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ہوسکتی ہے۔
اسی وجہ سے بہت سے لوگ عام سفید نمک کے بجائے کالے یا گلابی نمک کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالا نمک برصغیر کے کھانوں میں کافی عرصے سے استعمال ہورہا ہے اور اسے مختلف مشروبات اور کھانوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
کالے نمک کو عام طور پر سکنجبین، مالٹے کے رس، چاٹ اور دیگر کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ عام نمک سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی خاص خوشبو اور ذائقے کی وجہ سے یہ کئی کھانوں میں پسند کیا جاتا ہے۔
کالے نمک کے بارے میں مختلف صحت بخش دعوے بھی کیے جاتے ہیں۔ اسے نظامِ ہاضمہ کے لیے مفید قرار دیا جاتا ہے۔ روایتی طور پر بعض لوگ اسے ہاضمہ بہتر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تاہم اسے کسی بیماری کا علاج سمجھنا درست نہیں۔ اس حوالے سے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔
کالے نمک میں سوڈیم کے علاوہ کچھ معدنی اجزا معمولی مقدار میں موجود ہوسکتے ہیں۔ ان میں پوٹاشیم، آئرن، میگنیشیم اور کیلشیم شامل ہیں۔ پوٹاشیم جسم کے مختلف افعال اور پٹھوں کی معمول کی کارکردگی کے لیے اہم معدنی جزو ہے۔ لیکن کالے نمک میں ان اجزا کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی کہ اسے ان معدنیات کا اہم ذریعہ قرار دیا جائے۔
بعض روایتی طریقوں میں کالے نمک کو معدے کی تیزابیت، سینے کی جلن اور ریفلکس کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم ان مسائل کے علاج کے لیے صرف کالے نمک پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی شخص کو بار بار سینے میں جلن یا تیزابیت کی شکایت رہتی ہے تو اس کی اصل وجہ جاننے کے لیے ڈاکٹر سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
وزن کم کرنے کے حوالے سے بھی کالے نمک کے استعمال کے دعوے عام ہیں۔ تاہم صرف کالا نمک وزن کم کرنے کا ثابت شدہ طریقہ نہیں ہے۔ وزن کم کرنے کے لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور صحت مند طرزِ زندگی زیادہ اہم ہیں۔
بلڈ پریشر کے مریضوں کو نمک کے استعمال میں خاص احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ کالا نمک بھی سوڈیم فراہم کرتا ہے، اس لیے اسے سفید نمک کا ایسا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے جسے بغیر کسی حد کے استعمال کیا جاسکے۔ ہائی بلڈ پریشر والے افراد کو اپنی روزانہ نمک کی مقدار ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے مشورے کے مطابق رکھنی چاہیے۔
قبض کے لیے بھی کالے نمک کو ادرک اور لیموں کے رس کے ساتھ استعمال کرنے کے روایتی طریقے بتائے جاتے ہیں۔ تاہم قبض کی صورت میں پانی کی مناسب مقدار، فائبر والی غذا اور روزمرہ جسمانی سرگرمی پر توجہ دینا زیادہ اہم ہے۔ اگر قبض مسلسل رہے تو طبی مشورہ لینا چاہیے۔
کالے نمک کا استعمال جلد کی نگہداشت کے بعض گھریلو طریقوں میں بھی کیا جاتا ہے۔ نیم گرم پانی میں کالا نمک شامل کرکے جلد پر لگانے کا مشورہ بعض جگہوں پر دیا جاتا ہے۔ لیکن حساس جلد رکھنے والے افراد کو ایسے تجربات سے پہلے احتیاط کرنی چاہیے۔ کسی بھی چیز کو جلد پر لگانے سے پہلے چھوٹے حصے پر آزمانا بہتر ہے۔
ماہرین کے مطابق کالا نمک ہو یا سفید نمک، اصل بات اس کی مجموعی مقدار ہے۔ زیادہ نمک کا استعمال صحت کے لیے مناسب نہیں۔ اس لیے کالے نمک کو بھی اعتدال کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے۔ اسے متوازن غذا کا حصہ بنایا جاسکتا ہے، لیکن کسی بیماری کے علاج یا صحت کے ہر مسئلے کا حل سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










