خلیجی ممالک کی مدینہ منورہ میں حوثی ڈرون حملے کی شدید مذمت

مدینہ منورہ میں بجلی کی شہری تنصیب پر ہونے والے حوثی ڈرون حملے کی خلیجی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے سعودی خود مختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
مدینہ منورہ میں واقع بجلی کی تقسیم کے ایک اسٹیشن کو حوثی ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد خلیجی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم نے اس اشتعال انگیزی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
اتحادی فورسز کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ حوثیوں نے منگل کی صبح 5 بجکر 11 منٹ پر مدینہ منورہ میں واقع طیبہ الیکٹر بجلی کی تقسیم کے ایک سٹیشن کو نشانہ بنایا۔
تحقیقات اور حاصل کردہ شواہد سے اس بزدلانہ دہشت گردانہ کارروائی کی منصوبہ بندی اور اس میں حوثی ملیشیا کے ملوث ہونے کی مکمل تصدیق ہو چکی ہے، جس کی تائید آپریشنل جائزے اور حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کے ملبے سے بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ترک وزیر خارجہ کا مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو منہ توڑ جواب
اس دہشت گردانہ حملے کے نتیجے میں ایک ٹرانسفارمر عارضی طور پر آؤٹ آف آرڈر ہو گیا تاہم بجلی کا مرکزی گرڈ متاثر ہونے سے محفوظ رہا۔
حکام کے مطابق مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کو بجلی کی فراہمی کرنے والی اس سول تنصیب کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حوثی ملیشیا مقدس مقامات کو مسلسل نشانہ بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس طرح کے اقدامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو ہدف بنا کر دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بھڑکانے کی ایک دانستہ اور گھناؤنی کوشش ہیں۔
واقعے کے بعد متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت، اردن، قطر، ترکیہ اور عرب لیگ نے بھی اس حملے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سلامتی پر حملہ قرار دیا۔
بحرین نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کے خلاف سخت ترین موقف اپنائے۔ دریں اثنا، اتحادی فورسز اور مسلم ورلڈ لیگ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حوثی دہشت گرد ملیشیا کو روکنے، دو مقدس مساجد اور وہاں آنے والے زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکنہ ضروری اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
Catch all the دنیا News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.









