خیبر پختونخوا حکومت مذاکرات کے آخری مرحلے میں وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی، محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے 72 گھنٹے میں تحریری معاہدہ اور پلان دینے پر اتفاق کیا تھا، لیکن مذاکرات کے آخری مرحلے میں صوبائی حکومت اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی میڈیا پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی پوسٹ کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں سیکیورٹی صورتحال کی روشنی میں پولیس ایکٹ پر نظرثانی کرنے پر اتفاق ہوا تھا، اور یہ طے پایا تھا کہ دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں بنانے سے ہر صورت روکا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان، تحریک طالبان افغانستان اور تمام دہشت گرد گروہوں کی واضح مذمت کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، جبکہ افغان مہاجرین کی پالیسی کے تحت خیبر پختونخوا میں افغان کیمپ ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا تھا۔
وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ یہ بھی طے پایا تھا کہ عبوری افغان حکومت سے کسی قسم کے روابط نہیں رکھے جائیں گے اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے پولیس کو فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں : وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مذاکراتی کمیٹی کا مبینہ ڈرافٹ سوشل میڈیا پر شیئر کردیا
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی صوبائی سطح پر ذمہ داری لینے، مسلح افواج کے ساتھ انسداد دہشت گردی میں تعاون بڑھانے اور سابق فاٹا و ضم اضلاع میں انسداد دہشت گردی کے فیصلوں پر عمل درآمد کرنے کا معاہدہ ہوا تھا، جس کے تحت نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جانا تھا۔
محسن نقوی نے بتایا کہ مذاکرات کے آخری مرحلے میں خیبر پختونخوا حکومت تمام وعدوں سے پیچھے ہٹ گئی۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ جو ڈرافٹ آدھی رات کو گردش کرتا رہا، وہ شاید اس لیے جاری کیا گیا تاکہ دونوں فریقین کے پہلے سے طے شدہ مسودے کو خراب کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اصل حقیقت یہ ہے کہ مذاکراتی ٹیموں نے ایک الگ مسودہ فائنل کیا تھا، جس پر دونوں طرف سے اتفاق ہو چکا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبے میں اس وقت جنگ کی سی صورتحال ہے اس لیے سیکیورٹی کو کسی بھی صورت سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.








