پیر، 5-اکتوبر،2026
پیر 1448/04/24هـ (05-10-2026م)

روزانہ واک تو کرتے ہیں، مگر وزن کم نہیں ہورہا؟ ممکنہ وجہ جان لیں

05 اکتوبر, 2026 12:40

جسمانی وزن کم کرنا اکثر لوگوں کیلئے آسان نہیں ہوتا۔ صرف خوراک میں کمی کرنا کافی نہیں ہوتا۔ روزمرہ کی جسمانی سرگرمی بھی اس عمل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چہل قدمی ایسی ہی ایک آسان سرگرمی ہے جسے معمول کا حصہ بنایا جاسکتا ہے۔

اب ایک تحقیق میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ وزن کم کرنے اور اسے دوبارہ بڑھنے سے روکنے کیلئے روزانہ کتنے قدم چلنا فائدہ مند ہوسکتا ہے۔ اس تحقیق کے نتائج انٹرنیشنل جرنل آف انوائرمنٹل ریسرچ اینڈ پبلک ہیلتھ میں شائع ہوئے۔

محققین نے اس مقصد کیلئے 18 کنٹرول کلینیکل ٹرائلز کے اعداد و شمار کا جائزہ لیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر 3,758 افراد شامل تھے۔ تحقیق کے دوران شرکا کے روزانہ قدموں اور جسمانی وزن میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا۔

شرکا کو تقریباً 8 ماہ تک مانیٹر کیا گیا۔ اس عرصے کے دوران ان کے وزن میں آنے والی تبدیلیوں کو ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے بعد مزید 10 ماہ تک یہ دیکھا گیا کہ وزن میں ہونے والی کمی کتنی دیر تک برقرار رہتی ہے۔

تحقیق کے آغاز میں شرکا اوسطاً روزانہ 7,280 قدم چلتے تھے۔ مطالعے کے اختتام تک یہ تعداد بڑھ کر تقریباً 8,454 قدم روزانہ ہوگئی۔ اس دوران 8 ماہ کے عرصے میں جسمانی وزن میں اوسطاً 4.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔

اس کے بعد اگلے 10 ماہ کے دوران وزن میں ہونے والی کمی کا کچھ حصہ برقرار رہا۔ اس عرصے میں اوسطاً 3.3 فیصد وزن کم برقرار رہا۔ اس سے محققین نے اندازہ لگایا کہ باقاعدگی سے چہل قدمی وزن کم کرنے کے ساتھ اسے برقرار رکھنے میں بھی مددگار ہوسکتی ہے۔

تحقیق میں قدموں کی تعداد اور وزن میں کمی کے درمیان ایک تعلق بھی سامنے آیا۔ نتائج کے مطابق روزانہ مزید ایک ہزار قدم چلنے سے جسمانی وزن میں تقریباً 1.1 سے 1.3 فیصد اضافی کمی دیکھی گئی۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص میں وزن اسی شرح سے کم ہوگا، کیونکہ وزن پر خوراک، عمر، جسمانی ساخت اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔

محققین کے مطابق روزانہ تقریباً 8,500 قدم چلنا وزن میں کمی کو برقرار رکھنے کیلئے ایک مفید ہدف ہوسکتا ہے۔ باقاعدہ چہل قدمی سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وزن کو کنٹرول کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

جن افراد کیلئے روزانہ قدم گننا مشکل ہے، ان کیلئے تحقیق میں ایک متبادل طریقہ بھی بتایا گیا۔ روزانہ تقریباً 70 سے 90 منٹ تک معتدل رفتار سے چہل قدمی کرنا بھی جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک طریقہ ہوسکتا ہے۔

اس کیلئے ضروری نہیں کہ الگ سے واک کیلئے زیادہ وقت نکالا جائے۔ دفتر جاتے ہوئے کچھ فاصلہ پیدل طے کیا جاسکتا ہے۔ قریبی دکان سے سودا لینے کیلئے پیدل جانا بھی روزمرہ کی سرگرمی میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ گھر کے معمول کے کاموں میں زیادہ چلنے کی عادت بھی قدموں کی تعداد بڑھانے میں مدد دے سکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ چہل قدمی کو ایک دم بہت زیادہ بڑھانے کے بجائے آہستہ آہستہ معمول کا حصہ بنانا بہتر ہوسکتا ہے۔ ہر چند دن بعد چند منٹ یا تقریباً 250 قدموں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح جسم کو زیادہ سرگرمی کا عادی ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔

تاہم وزن کم کرنے کیلئے صرف چہل قدمی پر انحصار کرنا ضروری نہیں۔ متوازن غذا اور دیگر جسمانی سرگرمیوں کے ساتھ واک کو معمول کا حصہ بنانا زیادہ مفید ہوسکتا ہے۔ ہر فرد کی جسمانی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، اس لیے کسی خاص ہدف کو اپنانے سے پہلے اپنی صحت اور جسمانی حالت کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔