کیا آپ کے بھی پیروں میں چیونٹیاں چلنے جیسا احساس ہوتا ہے؟ وجہ جان کر حیران رہ جائیں گے

کافی دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے کے بعد پیروں میں سنسناہٹ یا چیونٹیاں چلنے جیسا احساس اکثر لوگوں کو ہوتا ہے۔
بعض اوقات ٹانگ یا پاؤں کچھ دیر کے لیے بالکل سُن بھی محسوس ہونے لگتا ہے۔ عام طور پر یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے اور جسم کی پوزیشن تبدیل کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔
ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر زیادہ دیر بیٹھنا اس کی ایک عام وجہ ہوسکتی ہے۔ اسی طرح کسی اونچی جگہ پر ٹانگیں لٹکائے رکھنا، مسلسل ایک ہی انداز میں بیٹھے رہنا یا ایسے جوتے پہننا جو پاؤں پر زیادہ دباؤ ڈالیں، بھی بے حسی کا سبب بن سکتے ہیں۔
جب جسم ایک ہی پوزیشن میں زیادہ دیر تک رہتا ہے تو بعض اعصاب پر دباؤ پڑ سکتا ہے۔ اس دوران متاثرہ حصے اور دماغ کے درمیان اعصابی سگنلز کی ترسیل عارضی طور پر متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً پاؤں یا ٹانگ میں احساس کم ہوجاتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ٹانگ سو گئی ہو۔
زیادہ تر صورتوں میں پوزیشن بدلنے اور کچھ دیر چلنے پھرنے سے یہ مسئلہ خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ حرکت کرنے سے دباؤ کم ہوتا ہے اور اعصابی سگنلز معمول پر آنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد سنسناہٹ اور بے حسی بھی ختم ہوجاتی ہے۔
بے حسی صرف ٹانگوں یا پیروں تک محدود نہیں ہوتی۔ یہ جسم کے دوسرے حصوں میں بھی ہوسکتی ہے۔ تاہم ہاتھ، بازو، ٹانگیں اور پاؤں اس کیفیت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق کبھی کبھار ہونے والی عارضی بے حسی عام طور پر تشویش کی بات نہیں ہوتی۔ لیکن اگر ہاتھ یا ٹانگ بار بار سُن ہونے لگے تو اس کی وجہ معلوم کرنا ضروری ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب بے حسی کسی خاص پوزیشن میں بیٹھنے کے بغیر بھی شروع ہوجائے۔
بار بار ہونے والی بے حسی کے پیچھے مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں۔ وٹامن بی 12 کی کمی بھی اس کی ایک وجہ بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ذیابیطس، تھائیرائیڈ کے مسائل، اعصاب سے متعلق بعض بیماریاں اور ریڑھ کی ہڈی یا اعصاب پر دباؤ بھی ایسی علامات پیدا کرسکتا ہے۔
کچھ صورتوں میں ہرنیا یا دیگر طبی مسائل کی وجہ سے بھی اعصاب متاثر ہوسکتے ہیں۔ اس لیے مسلسل یا بار بار ہونے والی سنسناہٹ کو صرف عام تھکن سمجھ کر نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔
اچانک جسم کے کسی حصے میں بے حسی بعض ہنگامی طبی حالات کی علامت بھی ہوسکتی ہے۔ اگر بے حسی کے ساتھ جسم کے ایک طرف کمزوری، چہرہ ٹیڑھا ہونا، بولنے میں دشواری یا اچانک توازن بگڑنے جیسی علامات بھی ظاہر ہوں تو فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔
اگر پیروں، ہاتھوں یا بازوؤں میں بے حسی غیر معمولی طور پر بار بار ہو، کئی گھنٹوں تک برقرار رہے یا وقت کے ساتھ بڑھتی جائے تو ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے۔ بروقت معائنہ اس کی اصل وجہ معلوم کرنے اور مناسب علاج شروع کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
مختصر یہ کہ کبھی کبھار غلط پوزیشن کی وجہ سے ٹانگ میں سنسناہٹ ہونا عام بات ہوسکتی ہے۔ لیکن بار بار یا بغیر کسی واضح وجہ کے ہونے والی بے حسی جسم میں موجود کسی مسئلے کی طرف اشارہ بھی کرسکتی ہے۔ ایسی علامات کو مسلسل نظر انداز کرنے کے بجائے ان کی وجہ جاننا زیادہ بہتر ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












