کیا آپ جانتے ہیں، ڈاکٹر سفید جبکہ وکیل کالے کوٹ کیوں پہنتے ہیں؟

دنیا میں ایسی بہت سی چیزیں موجود ہیں جو کہ ہم دیکھتے ہیں مگر کبھی یہ خیال نہیں آیا کہ یہ چیزیں ایسی کیوں ہے، آج اسی حوالے سے ہم آپ کو دلچسپ معلومات فراہم کریں گے۔
کسی شخص کا پیشہ یا کام کوئی بھی ہو، اس کے پیشے کو الگ سے دکھانے کے لیے اس شعبے کے لیے ایک الگ شناخت طے کی جاتی ہے جس میں وردی کا اپنا ایک اہم حصہ ہے۔
دنیا میں لاکھوں، کروڑوں افراد بچپن سے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں اور اس دن کا خواب دیکھتے ہیں جب وہ سفید کوٹ پہن سکیں گے، مگر کیا آپ نے کبھی اس بات کو سوچا کہ سفید رنگ ڈاکٹروں کے لیے مخصوص کیوں ہوگیا؟
19ویں صدی سے پہلے ڈاکٹر اور وکیل دونوں سیاہ کوٹ پہنتے تھے، سیاہ رنگ کے انتخاب کی وجہ یہ تھی کہ اسے رسمی اور باوقار رنگ سمجھا جاتا تھا اور خیال کیا جاتا تھا کہ یہ ڈاکٹروں کی شخصیت سے مطابقت رکھتا ہے۔
تاہم انیسویں صدی کے وسط سے پہلے، صرف سائنس دان جو لیبارٹریوں میں کام کرتے تھے وہ لیب کوٹ پہنتے تھے، جو ہلکے گلابی یا پیلے رنگ کے ہوتے تھے، اس وقت لیبارٹری کے سائنسدانوں نے یہ دکھا کر ڈاکٹروں کی ساکھ کو نقصان پہنچایا تھا کہ ادویات سے بنایا گیا علاج بیکار ہے۔
اس وقت سائنس دانوں کی عوام اور حکمرانوں کی طرف سے تعریف کی جاتی تھی اور ڈاکٹروں یا طبیبوں پر زیادہ بھروسہ نہیں کیا جاتا تھا۔
چنانچہ طبی پیشے نے سائنس کی طرف رجوع کیا، اس طرح ڈاکٹروں یا طبیبوں نے سائنسدان بننے کا فیصلہ کیا۔
اس کے بعد تحقیق کی گئی کہ لیبارٹریوں میں کی جانے والی ایجادات یقینی طور پر بیماریوں کا علاج کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں، اس لیے ڈاکٹر یا طبیب خود کو سائنس دان ظاہر کرنے کے لیے کوشاں تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹروں کا کامیاب آپریشن، خاتون کے پِتے سے 1200 پتھر نکال دیے گئے
اس کے بعد ڈاکٹر نے سائنسی لیبارٹری کوٹ کو اپنے کپڑوں کے معیار کے طور پر اپنایا اور ڈاکٹروں نے 1889 عیسوی میں سفید کوٹ کو اپنی پہچان کی علامت کے طور پر پہننا شروع کردیا۔
جب لیب کوٹ کو طبی پیشہ کے طور پر اپنایا گیا تو کوٹ کا رنگ سفید کردیا گیا۔
ایک تحقیق کے مطابق جدید سفید کوٹ کو کینیڈا میں ڈاکٹر جارج آرمسٹرانگ (1855-1933) نے متعارف کرایا، جو مونٹریال جنرل ہسپتال میں سرجن اور کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔
عام طور پر سفید رنگ کو صفائی سے منسلک کیا جاتا تھا اس کے بعد ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے اسپتالوں یا طبی مراکز میں صفائی کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے سفید کوٹ پہننا شروع کیا۔
جس کا مقصد بیکٹریا کی نشوونما کو روکنے اور وبائی امراض کو پھیلنے سے روکنا تھا اور اسی وجہ سے اسپتالوں میں سفید چادروں اور سفید ملبوسات کا استعمال شروع ہو گیا تاکہ جراثیموں کے خلاف جنگ کا اظہار ہو سکے۔
اسی طرح ایک وکیل کو اس کے کالے کوٹ سے اور ڈاکٹر کو اس کے سفید کوٹ سے پہچانا جا سکتا ہے۔
وکیلوں کے لئے ہمیشہ سے ہی کالے رنگ کا انتخاب کیا گیا کیونکہ یہ رنگ طاقت اور اقتدار کو ظاہر کرتا ہے۔
چیزوں پر اقتدار ہونا اور اپنا فیصلہ سنانے کی وجوہات کی بنا پر وکیل اور جج عدالت میں کالے کوٹ کا استعمال کرتے ہیں، بہت سے لوگوں کے نظریات کے مطابق وکیل اور جج انصاف کی طرف اپنا فیصلہ سناتے ہیں، ان کے پاس طاقت ہوتی ہے، یہ ہی وجہ ہے کہ وہ اس رنگ کا استعمال کرتے ہیں۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












