پیر، 21-ستمبر،2026
پیر 1448/04/10هـ (21-09-2026م)

پنجاب میں کچن کا کچرا پھینکنے کے بجائے کمپوسٹ بنائیں اور گرین کریڈٹ حاصل کریں

21 ستمبر, 2026 10:29

پنجاب حکومت نے شہریوں کو کچن سے نکلنے والے نامیاتی فضلے کو عام کچرے میں پھینکنے کے بجائے کمپوسٹ میں تبدیل کرنے کی ترغیب دی ہے۔ یہ پیغام عالمی یوم صفائی کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب گرین کریڈٹ پروگرام کے تحت جاری کیا گیا۔

حکومت نے شہریوں سے کہا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کے چھلکوں، انڈوں کے چھلکوں اور دیگر نامیاتی کچرے کو الگ جمع کرکے اس سے کمپوسٹ تیار کی جائے۔

سرکاری پیغام کے مطابق گھر میں کچن ویسٹ کو کمپوسٹ میں تبدیل کرنے پر تین گرین کریڈٹس حاصل کیے جاسکتے ہیں، جن کی مالیت 30 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔

کمپوسٹ بنانے سے گھریلو کچرے کی مقدار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جبکہ تیار شدہ نامیاتی کھاد کو پودوں اور باغبانی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ پنجاب حکومت کے گرین کریڈٹ پروگرام کا مقصد شہریوں کو ماحول دوست سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دینا ہے۔

گھر میں کمپوسٹ تیار کرنے کے لیے کسی پرانی بالٹی، ڈرم یا مناسب جگہ کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ برتن کے نچلے حصے میں پانی کے اخراج کے لیے سوراخ ہونا ضروری ہے۔ سب سے پہلے خشک پتے یا بھوسا ڈالا جائے، اس کے بعد سبزیوں اور پھلوں کے چھلکوں کی تہہ لگائی جائے۔

ہر تہہ پر تھوڑی سی باغ کی مٹی ڈال کر ہلکا پانی چھڑکنے سے نمی برقرار رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہر چند دن بعد اس مواد کو الٹ پلٹ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ آکسیجن پہنچتی رہے۔

کمپوسٹ تیار کرتے وقت گوشت، ہڈیاں، دودھ اور تیل والے کچرے کو شامل نہ کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کیونکہ اس سے بدبو اور دیگر مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ مناسب حالات میں کمپوسٹ تقریباً دو سے تین ماہ میں تیار ہوسکتی ہے۔

Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔