2027 میں موسم کا خطرناک رخ؟ سپر ایل نینو سے خشک سالی اور شدید بارشوں کا خدشہ

سال 2027 میں عالمی موسم کے حوالے سے ایک اہم موسمیاتی صورتحال سامنے آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں میں شدید بارشوں، خشک سالی اور درجہ حرارت میں اضافے کی صورت میں ظاہر ہوسکتے ہیں۔
موسمیاتی نظام ’’ایل نینو‘‘ وسطی اور مشرقی بحرالکاہل کے پانیوں کے غیر معمولی حد تک گرم ہونے سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے اثرات دنیا کے مختلف حصوں کے موسم پر پڑ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے مطابق ایل نینو عموماً ہر 2 سے 7 سال کے دوران تشکیل پاتا ہے اور اس کی وجہ سے بحرالکاہل کے بعض علاقوں میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔
تازہ موسمیاتی جائزوں کے مطابق ایل نینو کی شدت میں اضافے سے دنیا کے مختلف خطوں میں موسم کے معمولات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ مشرقی افریقا اور جنوبی امریکا کے بعض علاقوں میں شدید بارشیں جبکہ جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے کچھ حصوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
ایل نینو کے اثرات زراعت پر بھی پڑ سکتے ہیں، خصوصاً مکئی، چاول اور بارش پر انحصار کرنے والی دیگر فصلیں موسمی تبدیلیوں سے متاثر ہوسکتی ہیں۔
عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پہلے ہی شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، سیلاب اور خشک سالی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، جس کے باعث آنے والے برسوں میں موسم کی شدت پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔
موسمیاتی ماہرین کے مطابق 2027 میں درجہ حرارت اور موسمی شدت کے حوالے سے صورتحال اہم ہوسکتی ہے، تاہم کسی ایک سال کو ریکارڈ کا گرم ترین سال قرار دینا مستقبل کی موسمیاتی صورتحال اور دستیاب ڈیٹا پر منحصر ہوگا۔
ایل نینو کے ممکنہ اثرات میں خوراک کی پیداوار، پانی کی دستیابی اور عالمی غذائی تحفظ کے مسائل بھی شامل ہوسکتے ہیں، اس لیے متاثرہ خطوں میں موسمی پیشگوئیوں اور زرعی منصوبہ بندی کو اہمیت دی جارہی ہے۔
Catch all the دلچسپ و عجیب News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











