عالمی منڈی میں غیر یقینی کی صورتحال، تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور مذاکرات میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ گئی ہیں۔ سفارتی کوششوں کی ناکامی نے سپلائی کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیئے۔
عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان برقرار ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے کی جانے والی تمام سفارتی کوششیں تاحال کسی منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔
جون کی ترسیل کے لیے برینٹ کروڈ کے سودوں میں پینتالیس سینٹ یعنی صفر اعشاریہ چار فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت ایک سو آٹھ ڈالر اور اڑسٹھ سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی بحریہ نے ایرانی تیل بردار جہاز کو روک لیا
گزشتہ تجارتی سیشن میں برینٹ کی قیمتوں میں دو اعشاریہ آٹھ فیصد کی بڑی چھلانگ دیکھی گئی تھی اور یہ مسلسل ساتواں روز ہے، جب تیل کی قیمتوں میں اضافے کا تسلسل برقرار ہے۔
دوسری جانب امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی اٹھاون سینٹ یعنی صفر اعشاریہ چھ فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد یہ چھیانوے ڈالر اور چھیانوے سینٹ فی بیرل کی سطح پر آگیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی استحکام کی کوئی صورت پیدا نہیں ہوتی، مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور قیمتوں میں اضافے کا یہ عمل جاری رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ سرمایہ کار سپلائی چین میں ممکنہ تعطل سے خوفزدہ ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










