ایف بی آر کا گاڑیوں کے پارٹس کی قیمتیں انجن کے مطابق مقرر کرنے کا فیصلہ

Bad news for vehicle owners; FBR makes new decision
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے باہر سے منگوائے جانے والے آٹو پارٹس پر کسٹمز ویلیو معلوم کرنے کا پرانا طریقہ بدل دیا ہے۔
نئے قانون کے مطابق اب گاڑی کے پرزوں پر ٹیکس ان کے وزن کے حساب سے نہیں لگے گا۔ اب ٹیکس کا تعین اس بات پر ہوگا کہ وہ پرزہ کس گاڑی اور کتنے طاقتور انجن کے لیے منگوایا گیا ہے۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیوایشن کراچی نے اس سلسلے میں ایک نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس نئے قانون کو ویلیوایشن رولنگ نمبر 2092 آف 2026 کا نام دیا گیا ہے۔
اس نئے قانون کے تحت گاڑی کے مختلف اہم پرزوں کی نئی قیمتیں طے کی گئی ہیں۔ ان پرزوں میں پانی کے پمپ، آئل پمپ، فیول پمپ، آئل فلٹر اور ایئر فلٹر شامل ہیں۔ یہ نیا نظام 2019 کے پرانے قانون کی جگہ لے گا جو پچھلے چھ سال سے چل رہا تھا۔
حکام نے بتایا کہ یہ تبدیلی گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ لوگوں کے کہنے پر کی گئی ہے۔ تاجروں کا موقف تھا کہ مارکیٹ میں آٹو پارٹس کی پہچان گاڑی کے ماڈل اور انجن کی صلاحیت سے ہوتی ہے نہ کہ ان کے وزن سے۔ اس لیے پرانا وزن والا نظام اب بیکار ہو چکا تھا۔
اس نئے قانون کو بنانے سے پہلے پاکستان آٹو موبائل اسپیئر پارٹس امپورٹرز اینڈ ڈیلرز ایسوسی ایشن (پاسپیڈا) اور انڈس موٹر کمپنی کے نمائندوں سے تفصیلی مشورے بھی کیے گئے۔ کسٹمز حکام نے نئی قیمتیں طے کرنے کے لیے مارکیٹ کا سروے کیا اور امپورٹ کے ڈیٹا کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔
اس نئے نظام میں کسٹمز نے ‘اِن ٹینک فیول پمپ’ (جو گاڑی کی ٹینکی کے اندر لگتا ہے) کے لیے ایک بالکل الگ کیٹیگری بنائی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پرزہ عام پمپ سے مختلف ہوتا ہے اور مارکیٹ میں اس کی قیمت بھی الگ ہوتی ہے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












