مالی سال 2026 کے مقابلے میں 2027 میں مہنگائی کا منظرنامہ بہتر ہوگا، گورنر اسٹیٹ بینک

SBP Governor Issues Warning
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026 کے مقابلے میں 2027 میں مہنگائی کا منظرنامہ بہتر ہوگا۔
گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان جمیل احمد نے کہا کہ آئندہ مالی سال 2027 کے دوران ملک میں مہنگائی کی صورتحال گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید بہتر رہنے کی توقع ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے باعث حکومت اور اسٹیٹ بینک کو اپنے معاشی تخمینوں کا ازسرنو جائزہ لینا پڑ سکتا ہے۔ عالمی حالات میں تبدیلیاں ملکی معیشت پر براہ راست اثر ڈالتی ہیں، اس لیے تمام معاشی اشاریوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026 کے دوران عالمی سطح پر جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی کے باوجود پاکستانی معیشت نے استحکام کا مظاہرہ کیا۔ اس عرصے میں اوسط افراط زر 7.05 فیصد رہی، جو اسٹیٹ بینک کی جانب سے مقرر کردہ 5 سے 7 فیصد کے ہدف کے قریب رہی۔ یہ معاشی نظم و ضبط اور پالیسی اقدامات کا نتیجہ ہے، جس سے معیشت میں بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔
جمیل احمد نے کہا کہ موجودہ اندازوں کے مطابق مالی سال 2026 میں ملکی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کی شرح نمو تقریباً 3.7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ اگر معاشی سرگرمیاں اسی رفتار سے جاری رہیں تو آئندہ مالی سال میں ترقی کی رفتار مزید بہتر ہو سکتی ہے۔ حکومت اور مالیاتی ادارے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور سرمایہ کاری میں اضافے کے لیے مختلف اقدامات کر رہے ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کے حوالے سے بھی اہم اعداد و شمار شیئر کیے۔ گزشتہ چار برسوں میں ایس ایم ایز کو دیے جانے والے قرضوں کا حجم دگنا ہو چکا ہے، جبکہ قرض حاصل کرنے والے کاروباری اداروں کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت معیشت کے لیے مثبت ہے کیونکہ یہی شعبہ روزگار پیدا کرنے اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے بینکوں پر زور دیا کہ وہ مختلف معاشی شعبوں کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مخصوص مالیاتی مصنوعات متعارف کروائیں۔ قرضوں کی فراہمی کا مقصد صرف سرمایہ فراہم کرنا نہیں بلکہ کاروبار کو وسعت دینا، نئی ملازمتیں پیدا کرنا اور قومی معیشت کو مضبوط بنانا بھی ہونا چاہیے۔ اس حوالے سے جدید اور آسان فنانسنگ ماڈلز متعارف کروانے کی ضرورت ہے۔
کرنٹ اکاؤنٹ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا کہ مالی سال 2026 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا ہے۔ توقع ہے کہ پورا مالی سال بھی سرپلس کے ساتھ مکمل ہوگا۔ مالی سال 2027 میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ کے مثبت رہنے کی امید ہے، جو ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور معاشی استحکام کے لیے خوش آئند اشارہ ہے۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اگر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو اس کے اثرات درآمدی بل، مہنگائی اور معاشی اہداف پر پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے معاشی پالیسیوں اور آئندہ مالی سال کے تخمینوں کا مسلسل جائزہ لیا جائے گا تاکہ ملکی معیشت کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











