جمعرات، 23-جولائی،2026
جمعرات 1448/02/09هـ (23-07-2026م)

آئی ایم ایف کا گیس کمپنیوں کے واجبات کو نقصان قرار دینے کا مطالبہ، پیٹرولیم ڈویژن کا ماننے سے انکار

21 جولائی, 2026 13:10

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل مذاکرات میں گیس سیکٹر کے 1700 ارب روپے کے گردشی قرضے کی کمی کے پلان پر اتفاق نہ ہو سکا، حتمی بات چیت ستمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان ہونے والے ورچوئل مذاکرات میں گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کی سیٹلمنٹ کے منصوبے پر اتفاق نہیں ہو سکا۔

ذرائع کے مطابق گیس سیکٹر کا مجموعی گردشی قرضہ 3300 ارب روپے کے لگ بھگ پہنچ چکا ہے، جسے 1700 ارب روپے تک کم کرنے کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ تاہم آئی ایم ایف کی جانب سے پیش کی جانے والی نئی شرائط کے باعث فی الحال یہ معاملہ حل نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھیں : مشرقِ وسطیٰ میں جنگ سے دنیا بھر میں مہنگائی مزید بڑھنے کا خدشہ، آئی ایم ایف نے معاشی ترقی کا ہدف کم کر دیا

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ سوئی سدرن اور سوئی ناردرن دونوں گیس کمپنیوں کے نقصان کو سرکاری طور پر بک کیا جائے اور انہوں نے جو بھی وصولیاں کرنی ہیں ان کو واجبات کے بجائے صاف طور پر نقصان قرار دیا جائے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے مطابق نقصان درج کرنے کے بعد گیس کمپنیوں کو ری کیپٹلائز کیا جائے۔ پیٹرولیم ڈویژن کے حکام آئی ایم ایف کی ان شرائط کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کیونکہ اس شرط پر عملدرآمد سے گیس کمپنیوں کے شیئرز میں شدید گراوٹ کا خطرہ ہے۔

ورچوئل بات چیت میں اتفاقِ رائے نہ ہونے کے بعد اب گیس سیکٹر کے گردشی قرضے کے سیٹلمنٹ پلان پر حتمی بات چیت ستمبر 2026 کے دوران ہوگی۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ اب ستمبر میں جو نیا پلان تیار کیا جائے گا، وہ آئی ایم ایف کی تجاویز کے مطابق ہو سکتا ہے۔

Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔