پاکستان نے امریکہ سے پانچ سال کی مدت کے لیے 10 ارب ڈالر کا دوطرفہ مالیاتی سہارا مانگ لیا

پاکستان نے امریکی وزارتِ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی پانچ سالہ ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی’ کی درخواست کی ہے، جس سے روپے پر دباؤ میں کمی آئے گی۔
پاکستان نے اپنے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے اور مالیاتی دباؤ پر قابو پانے کے لیے امریکہ سے 10 ارب ڈالر کی ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن فیسیلٹی’ فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ خبر پہلی بار سامنے آئی ہے اور یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب ایران تنازع میں سفارتی کردار کے باعث پاکستان کی عالمی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو بھیجی گئی تحریری درخواست میں پانچ سال کی مدت کے لیے 10 ارب ڈالر کا دوطرفہ مالیاتی سہارا مانگا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : چینی کمپنی کی پاکستان کے انفراسٹرکچر شعبے میں سرمایہ کاری میں دلچسپی
اگر یہ درخواست منظور ہو جاتی ہے تو اس سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ ہوگا، روپے کی قدر پر دباؤ کم ہوگا اور آئی ایم ایف کے پروگرام پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔
اس معاملے پر امریکی وزارتِ خزانہ نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ پاکستانی حکام نے بھی فوری کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔
پاکستان کے وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے حال ہی میں واشنگٹن میں اپنے امریکی ہم منصب سکاٹ بیسنٹ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے خطے کی سیاسی صورتحال کے پاکستانی معیشت پر پڑنے والے اثرات کا ذکر کیا۔
پاکستان آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے پروگرام پر عمل پیرا ہے، جس کی وجہ سے عوام پر ٹیکسوں اور معاشی اصلاحات کا بوجھ ہے، مگر امریکہ کے ساتھ معاشی تعلقات کو اب کرپٹو کرنسی، روزویلٹ ہوٹل کی دوبارہ تعمیر اور ریکوڈک میں امریکی سرمایہ کاری جیسے شعبوں تک پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.












