آئی ایم ایف کا حکومت سے فیول ریلیف اسکیم جاری نہ رکھنے کا مطالبہ

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
مذاکرات میں وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم بھی زیر بحث آئی ہے۔ حکام کی جانب سے آئی ایم ایف وفد کو اسکیم کے طریقہ کار اور اس کے مالی اثرات پر بریفنگ دی گئی۔ حکومت اور آئی ایم ایف کے درمیان فیول سبسڈی اور گیس سیکٹر کے گردشی قرضے سمیت توانائی کے معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ فیول ریلیف اسکیم کے تحت مخصوص اور مستحق صارفین کو ٹارگٹڈ سبسڈی دی جا رہی ہے۔ یہ اقدام مستقل سبسڈی کے طور پر نہیں بلکہ موجودہ حالات میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے عارضی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آنے کی صورت میں فیول ریلیف اسکیم ختم کردی جائے گی۔ یہی مؤقف حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے سامنے بھی رکھا گیا ہے۔
حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث عوام کو فوری ریلیف دینے کیلئے یہ اسکیم شروع کی گئی۔ تیل کے بحران سے نمٹنے کیلئے کیے گئے اقدامات کے نتیجے میں صورتحال کو بہتر انداز میں سنبھالنے میں مدد ملی۔ اس کے ساتھ حکومت نے ٹیکس اصلاحات کو بھی اپنی اہم ترجیحات میں شامل قرار دیا ہے۔ محصولات میں اضافے اور مالی نظم و ضبط کیلئے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے فیول ریلیف اسکیم کی مدت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ آئی ایم ایف کا مؤقف بتایا گیا ہے کہ اسکیم کو تین ماہ سے زیادہ توسیع دینا مشکل ہوسکتا ہے۔ حکومت کے اندازوں کے مطابق تین ماہ کی فیول سبسڈی کی مجموعی لاگت 75 ارب روپے سے تجاوز کرسکتی ہے۔ اسی وجہ سے اسکیم کے مالی اثرات اور اس کی مدت مذاکرات میں اہم موضوع بن گئے ہیں۔
مذاکرات کے دوران پاکستان نے آئی ایم ایف کو پیٹرول کی قیمت کا تفصیلی کاسٹ بریک ڈاؤن بھی پیش کیا۔ درآمدی پیٹرول کی قیمت تقریباً 250 روپے فی لیٹر بنتی ہے، جبکہ صارفین کو یہ تقریباً 390 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ اس حساب سے پیٹرول کی قیمت میں ٹیکس اور دیگر اخراجات کا بڑا حصہ شامل ہے۔ پیٹرول پر تقریباً 110 روپے فی لیٹر ٹیکس جبکہ مختلف مارجنز کی مد میں تقریباً 27 روپے شامل ہیں۔
Catch all the کاروبار News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











