شوگر کی سطح محسوس کرکے ہارمون خارج کرنے والا پروبائیوٹک تیار

Big Problem Solved!!! Scientists Give Good News to Diabetes Patients
چینی سائنسدانوں نے ایک ایسا انجینیئرڈ پروبائیوٹک تیار کیا ہے جو جسم میں گلوکوز کی سطح میں تبدیلی کو محسوس کرکے ضرورت کے مطابق جی ایل پی ون ہارمون خارج کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت کو ذیابیطس کے علاج کے لیے ایک ممکنہ نئے طریقہ کار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس ٹیکنالوجی کو ابھی مزید تحقیق اور طبی آزمائشوں سے گزرنا ہوگا۔
یہ تحقیق شنگھائی کی ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی کے محققین کی جانب سے مصنوعی حیاتیات کے شعبے میں کی جانے والی کوششوں کا حصہ ہے۔ اس ٹیکنالوجی کا بنیادی تصور یہ ہے کہ انجینیئرڈ جرثومے کو ایک ایسے نظام میں تبدیل کیا جائے جو جسم کے اندر موجود مخصوص حیاتیاتی سگنلز کو محسوس کرے اور ان کے مطابق علاجی مادے کے اخراج کو تبدیل کرسکے۔
اس طریقہ کار میں پروبائیوٹک کو زبانی طور پر استعمال کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے تاکہ یہ آنتوں تک پہنچ سکے۔ وہاں یہ جسم میں گلوکوز سے متعلق تبدیلیوں کو محسوس کرکے جی ایل پی ون کے اخراج کو ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کرے گا۔ جی ایل پی ون ایک ایسا ہارمون ہے جو گلوکوز کے ردعمل میں انسولین کے اخراج کو بڑھانے میں کردار ادا کرتا ہے۔
محققین اس طرح کے نظام کو مصنوعی حیاتیات پر مبنی ایک ’’زندہ دوا‘‘ کے تصور سے جوڑتے ہیں۔ عام ادویات کے برعکس، جنہیں مقررہ مقدار اور وقت پر استعمال کرنا پڑتا ہے، اس تصور میں انجینیئرڈ جرثومہ جسم کے اندر موجود حالات کے مطابق علاجی مادے کی پیداوار کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مصنوعی حیاتیات کا استعمال
اس ٹیکنالوجی کی بنیاد مصنوعی حیاتیات ہے، جس میں جرثوموں کے جینیاتی نظام کو اس طرح تبدیل کیا جاتا ہے کہ وہ مخصوص سگنلز کو محسوس کرکے مطلوبہ ردعمل ظاہر کرسکیں۔ ایسٹ چائنا نارمل یونیورسٹی کے محققین نے میٹابولک بیماریوں کے لیے ایسے ’’ذہین زندہ علاج‘‘ کے امکانات پر بھی تحقیق کی ہے۔
اس شعبے میں پہلے بھی ایسی تحقیقات سامنے آچکی ہیں جن میں انجینیئرڈ پروبائیوٹکس کے ذریعے جی ایل پی ون یا اس کے مشابہ ہارمونز کو آنتوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی۔ جانوروں پر ہونے والی حالیہ تحقیق میں انجینیئرڈ لیکٹوکوکس لیکٹس کے ذریعے جی ایل پی ون کے مشابہ مادے کی زبانی ترسیل سے خون میں شوگر کم ہونے اور لبلبے کے خلیوں کی ساخت میں بہتری کے نتائج سامنے آئے، تاہم اس تحقیق کے مصنفین نے بھی مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
روایتی علاج سے مختلف طریقہ
اس طریقہ کار کا ایک ممکنہ فائدہ یہ ہے کہ علاج کو زبانی طور پر فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اگر مستقبل میں یہ ٹیکنالوجی انسانوں میں محفوظ اور مؤثر ثابت ہوتی ہے تو ممکن ہے کہ کچھ مریضوں کے لیے بار بار انجیکشن لگانے کے بجائے زیادہ آسان طریقہ دستیاب ہوسکے۔
تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ طریقہ موجودہ ذیابیطس کے علاج کا متبادل بن چکا ہے۔ انجینیئرڈ جرثوموں کے جسم میں رویے، ان کی حفاظت، علاجی مادے کی درست مقدار میں پیداوار اور طویل مدتی اثرات جیسے کئی سوالات کے جواب ابھی مزید تحقیق سے حاصل کرنا باقی ہیں۔
کیا یہ ذیابیطس کا مستقبل کا علاج ہے؟
ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے عالمی مسئلے کے باعث ایسے نئے علاج کی تلاش تیز ہوگئی ہے جو مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ استعمال میں بھی آسان ہوں۔ انجینیئرڈ پروبائیوٹکس اسی سلسلے میں ایک دلچسپ سائنسی راستہ پیش کرتے ہیں۔
اگر مستقبل کی جانچ میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ نظام انسانوں میں محفوظ طریقے سے گلوکوز کو محسوس کرکے مناسب مقدار میں جی ایل پی ون خارج کرسکتا ہے تو یہ ذیابیطس کے علاج میں ایک اہم پیش رفت ہوسکتی ہے۔
تاہم فی الحال اسے تجرباتی ٹیکنالوجی سمجھنا چاہیے۔ اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے انسانی طبی آزمائشیں، طویل مدتی حفاظتی جائزے اور مختلف مریضوں میں اس کی افادیت کی تصدیق ضروری ہوگی۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











