کونسی ورزش سے آپ موٹاپے اور ذیابیطس کو ہمیشہ دور رکھ سکتے ہیں؟ جانیے

روزانہ ورزش کے لیے لمبا وقت نکالنا ہر شخص کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ تاہم ایک نئی طبی تحقیق میں مختصر دورانیے کی تیز رفتار جسمانی سرگرمی کے حوالے سے دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔ تحقیق کے مطابق روزانہ چند منٹ کی دوڑ جسم میں ایسے فوری مالیکیولر ردعمل پیدا کرسکتی ہے جو صحت کے مختلف پہلوؤں سے جڑے ہوئے ہیں۔
امریکا میں ہونے والی اس تحقیق میں 53 ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا۔ محققین نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختصر مگر تیز رفتار دوڑ کے بعد انسانی جسم میں کس قسم کی تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔
تحقیق کے مطابق روزانہ چھ مرتبہ تقریباً 30، 30 سیکنڈ تک دوڑنے سے خون میں موجود متعدد پروٹینز کی سطح میں فوری تبدیلی دیکھی گئی۔ اس طرح مجموعی طور پر تقریباً تین منٹ کی تیز دوڑ بھی جسم میں نمایاں حیاتیاتی ردعمل پیدا کرسکتی ہے۔
محققین نے بتایا کہ دوڑنے کے بعد 200 سے زیادہ میٹابولائٹس میں تبدیلیاں دیکھی گئیں۔ اس کے ساتھ ایسے پروٹینز بھی متحرک ہوئے جو خون کی شریانوں کے پھیلاؤ، جسمانی ٹشوز کی مرمت اور ہارمونز سے متعلق سگنلز میں کردار ادا کرتے ہیں۔
تحقیق میں خون کی گردش سے متعلق جسم کے ردعمل پر بھی توجہ دی گئی۔ محققین کے مطابق ورزش کے دوران فعال ہونے والے بعض پروٹینز خلیوں کے درمیان سگنلز منتقل کرنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اس عمل کا تعلق خون کی روانی اور جسم کے مختلف حصوں تک ضروری اجزا پہنچانے سے ہے۔
چربی کے خلیوں کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ دوڑنے کے بعد ان خلیوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ محققین کے مطابق یہ نتائج اس بات کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ مختصر مدت کی تیز ورزش جسم کے میٹابولک نظام پر کیسے اثر انداز ہوسکتی ہے۔
تحقیق میں مختصر دوڑ کا موازنہ 90 منٹ کی معتدل ورزش سے بھی کیا گیا۔ محققین کے مطابق 90 منٹ کی معتدل ورزش کے بعد ایسا فوری اور وسیع مالیکیولر ردعمل نظر نہیں آیا جیسا مختصر مگر تیز دوڑ کے بعد دیکھا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ دوڑنے سے فعال ہونے والے بعض پروٹینز کا تعلق دل کی شریانوں اور میٹابولک صحت سے ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس قسم کی جسمانی سرگرمی مستقبل میں دل کے امراض، موٹاپے اور ٹائپ 2 ذیابیطس جیسے مسائل کے خطرے کو سمجھنے میں اہم ہوسکتی ہے۔
تحقیق کے دوران آٹھ ہفتوں کی تربیت کے اثرات بھی دیکھے گئے۔ محققین کے مطابق نتائج سے اندازہ ہوتا ہے کہ جسم کا یہ ردعمل صرف وقتی تبدیلی تک محدود نہیں رہتا۔ باقاعدہ تربیت کے دوران بھی اس کے اثرات دیکھے گئے۔
ماہرین کے مطابق اس تحقیق کا ایک اہم پہلو ورزش کی شدت ہے۔ یعنی صرف ورزش کا دورانیہ ہی اہم نہیں بلکہ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ جسمانی سرگرمی کتنی تیزی یا شدت سے کی جارہی ہے۔
تاہم تحقیق کے نتائج کو اس طرح نہیں سمجھنا چاہیے کہ صرف تین منٹ کی دوڑ ہر بیماری سے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے۔ جسمانی صحت پر غذا، نیند، مجموعی طرز زندگی اور دیگر عوامل بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔ کسی بھی شخص کے لیے ورزش کا مناسب طریقہ اس کی عمر اور جسمانی حالت کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔
Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.











