منگل، 25-اگست،2026
منگل 1448/03/12هـ (25-08-2026م)

گریوں کا استعمال ہائی بلڈ پریشر سے بچاؤ میں مددگار

25 اگست, 2026 12:15

بلڈ پریشر اس دباؤ کو ظاہر کرتا ہے جو خون کے شریانوں میں بہنے کے دوران ان کی دیواروں پر ڈالتا ہے۔ جب یہ دباؤ طویل عرصے تک معمول سے زیادہ رہے تو اسے ہائی بلڈ پریشر یا فشار خون کہا جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کو اکثر خاموش قاتل قرار دیا جاتا ہے کیونکہ بہت سے افراد میں اس کی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری دل، دماغ، آنکھوں اور گردوں سمیت جسم کے مختلف اہم اعضا کو متاثر کرسکتی ہے۔

ایک نئی تحقیق میں گریوں کے استعمال اور ہائی بلڈ پریشر کے خطرے کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لیا گیا ہے۔

برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق مناسب مقدار میں گریاں کھانے والے افراد میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ کم ہوسکتا ہے۔

تحقیق میں 18 سے 87 سال کی عمر کے ایک لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد پر مشتمل آٹھ مختلف مطالعات کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔ ان افراد میں 20 ہزار سے زیادہ ایسے لوگ بھی شامل تھے جن میں ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص ہوچکی تھی۔

محققین نے شرکا کی غذائی عادات کا جائزہ لیتے ہوئے یہ جاننے کی کوشش کی کہ گریوں کے استعمال کا ہائی بلڈ پریشر کے خطرے سے کیا تعلق ہے۔

نتائج میں گریاں کھانے اور بلند فشار خون کے کم خطرے کے درمیان تعلق سامنے آیا۔

تحقیق کے مطابق روزانہ گریاں استعمال کرنے سے ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ تقریباً 16 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔ جبکہ روزانہ 28 گرام گریاں کھانے کی صورت میں اس خطرے میں تقریباً 20 فیصد کمی دیکھی گئی۔

محققین کے مطابق روزانہ مجموعی طور پر 30 گرام گریاں استعمال کرنے سے ہائی بلڈ پریشر کے خطرے میں کمی تقریباً 26 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ مقدار میں گریاں کھانے سے خطرے میں مزید کمی کا واضح ثبوت نہیں ملا۔

بادام، اخروٹ اور پستے سمیت مختلف گریوں میں فائبر، صحت مند چکنائیاں، میگنیشیم، پوٹاشیم، وٹامن ای، وٹامن سی، وٹامن کے، پروٹین اور بی گروپ کے متعدد وٹامنز پائے جاتے ہیں۔ یہ غذائی اجزا مجموعی صحت کے ساتھ ساتھ دل اور خون کی شریانوں کے لیے بھی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

محققین کے مطابق گریوں میں موجود بعض غذائی اجزا بلڈ پریشر کو معمول کی سطح پر رکھنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر میگنیشیم خون کی شریانوں کو پرسکون رکھنے میں مدد دے سکتا ہے، جبکہ پوٹاشیم بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر کیا ہوتا ہے؟

ہائی بلڈ پریشر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خون شریانوں میں معمول سے زیادہ دباؤ کے ساتھ بہتا ہے۔ اگر شریانیں تنگ یا سخت ہوجائیں تو خون کے بہاؤ کے لیے زیادہ دباؤ درکار ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بلڈ پریشر بڑھ سکتا ہے۔

طویل عرصے تک ہائی بلڈ پریشر برقرار رہنے سے خون کی شریانوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دل کے امراض، ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت متعدد سنگین طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ہائی بلڈ پریشر دماغ، دل، آنکھوں اور گردوں جیسے اہم اعضا کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔ چونکہ اس بیماری کی علامات کئی افراد میں واضح نہیں ہوتیں، اس لیے باقاعدگی سے بلڈ پریشر چیک کروانا اہم ہے۔

بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات استعمال کرنے کے ساتھ صحت مند طرز زندگی اپنانا بھی ضروری ہے۔ متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، نمک کے استعمال میں کمی اور وزن کو صحت مند حد میں رکھنا بلڈ پریشر کے انتظام میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

گریاں متوازن غذا کا حصہ بن سکتی ہیں، تاہم انہیں کسی بیماری کے علاج یا ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ ہائی بلڈ پریشر کی تشخیص یا علاج کے لیے طبی ماہر سے مشورہ ضروری ہے۔

Catch all the صحت News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News


Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.

اوپر تک سکرول کریں۔