بانی پی ٹی آئی کا صدارتی ریلیف لینے سے انکار

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے صدارتی معافی کے ذریعے کوئی ریلیف حاصل کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
نجی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق صدرِ مملکت کے طور پر عارف علوی کی مدت ختم ہونے جارہی ہے تاہم عمران خان نے صدارتی ریلیف کے زریعے کسی بھی قسم کا ریلیف حاصل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو کسی کے خلاف کسی بھی سزا کو معاف کرنے یا معاف کروانے کا اختیار ہوتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں یہ قیاس آرائیاں عروج پر تھیں کہ صدر عارف علوی دفتر کو الوداع کرنے سے قبل سابق وزیراعظم عمران خان کی سزا کو معاف کرنے کے لیے آرٹیکل 45 کے تحت درخواست کر سکتے ہیں۔
تاہم پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن نے ان قیاس آرائیوں کو ختم کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے صدر علوی کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ایسی درخواستوں پر غور نہ کریں۔
واضح رہے کہ عمران خان کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے توشہ خانہ کیس سمیت تین الگ الگ مقدمات میں سزا سنائی گئی ہے، جس میں انہیں بالترتیب 14، 10 اور 7 سال قید کی سزا
سنائی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ کیس؛ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی پر آج فردِ جرم عائد ہونے کا امکان
اس اقدام کا اشارہ پی ٹی آئی کے رہنما اور سینئر وکیل لطیف کھوسہ نے گزشتہ سال دیا تھا جب عمران خان کو توشہ خانہ کیس میں اسلام آباد کی ایک ضلعی عدالت نے سزا سنائی تھی۔
لطیف کھوسہ نے کہا تھا کہ صدر اپنی صوابدید پر یا وزیراعظم کے مشورے سے آرٹیکل 45 کے تحت کسی بھی سزا کو معاف یا معاف کروا سکتے ہیں۔
ان کا یہ کہنا تھا کہ صدر کے معافی دینے کے اختیار میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پوری دنیا میں سربراہ مملکت کے پاس کسی بھی مجرم کو معاف کرنے، فرد جرم واپس لینے، معافی اور مہلت دینے کا اختیار ہوتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










