خواتین کی یونیورسٹیز میں مرد پروفیسرز اور اساتذہ کو ہٹانے کا فیصلہ

خواتین کی یونیورسٹیز میں مرد پروفیسرز اور اساتذہ کو ہٹانے کا فیصلہ (فوٹو: فائل)
حکومت پنجاب نے طالبات کو ہراساں کرنے کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے صوبے بھر کی خواتین یونیورسٹیوں سے مرد پروفیسرز اور اساتذہ کو ہٹانے کا فیصلہ کرلیا۔
گورنر سردار سلیم حیدر نے میڈیا سے گفتگو کے دوران اِس فیصلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں میں ہراساں کرنے میں ملوث افراد کو سخت سزائیں دی جائیں گی۔
خواتین کی جامعات سے مرد عملے کو ہٹانے کے علاوہ گورنر نے مزید انکشاف کیا کہ طالبات کو بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے سے بچانے کیلئے امتحانی پرچے بنانے اور چیکنگ کے نظام کو تبدیل کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: حکومت نے ایک اور عام تعطیل کا اعلان کر دیا
انہوں نے کہا کہ وائس چانسلرز اور پروفیسرز کی کارکردگی کے لیے پرفارما تقسیم کیے جائیں گے، کارکردگی کی بنیاد پر سزا اور جزا کا فیصلہ کیا جائے گا۔
مزید پڑھیں: ’مجھے کسی کا کوئی خط نہیں ملا‘؛ آرمی چیف کا صحافیوں کو جواب
واضح رہے کہ یہ پیش رفت اسیے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز ہی پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سیشن عدالتوں نے مختصر وقت میں ایک ہزار سے زائد خواتین کو طلب کیا ہے جنہوں نے ہراسانی کے مقدمات درج کروا رکھے تھے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما فائرنگ سے جاں بحق
خیال رہے کہ خواتین کو ہراساں کرنے سے متعلق محکمہ پولیس نے ایک علیحدہ ڈیپارٹمنٹ قائم کر رکھا ہے جو صرف انہی کیسز کو دیکھتا ہے۔
Catch all the پاکستان News, Breaking News Event and Trending News Updates on GTV News
Join Our Whatsapp Channel GTV Whatsapp Official Channel to get the Daily News Update & Follow us on Google News.










